سعودی عرب نے ایران کی حمایت یافتہ حوثی ملیشیا کے یمن کی گورنری حضرموت میں واقع الضبہ آئل ٹرمینل پر 'دہشت گردانہ' حملے کی مذمت کی ہے۔
وزارتِ خارجہ نے ہفتے کے روز ایک بیان میں کہاہے کہ یہ حملہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد2216اور بین الاقوامی قوانین اور اصولوں کی کھلی خلاف ورزی ہے۔
یمن کی بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ حکومت نے کہا تھا کہ اس کی افواج نے حضرموت کے قصبے الشہر میں واقع الضبہ آئل ٹرمینل پر داغے گئے مسلح ڈرونز کو روک کر ناکارہ بنادیا ہے۔اس حملے کے وقت ایک آئل ٹینکروہاں لنگراندازہونے کی تیاری کررہا تھا۔
سعودی عرب کی وزارتِ خارجہ نے مزیدکہاکہ یہ حملہ اس بات کی تصدیق کرتا ہے کہ دہشت گردحوثی ملیشیا اور اس کے پشت پناہ قوتیں یمن میں شہری اوراقتصادی تنصیبات ، عالمی توانائی کی رسداورگذرگاہوں کو نشانہ بنا رہے ہیں۔
اس میں یہ بھی کہاگیا ہے کہ’’اس حملے کو 2 اکتوبر کو جنگ بندی ختم ہونے کے بعد حوثیوں کی طرف سے اشتعال انگیزی سمجھاجائے گا‘‘۔
حوثیوں کے زیرقبضہ علاقوں میں اس وقت سرکاری ملازمین کوتن خواہوں کی ادائی پریمنی حکومت اور ملیشیا کے درمیان اختلافات چل رہے ہیں جبکہ حالیہ ہفتوں میں دونوں فریق اقوام متحدہ کی ثالثی میں ہونے والی جنگ بندی کی تجدید میں ناکام رہے ہیں۔اس تناظر میں یمن میں تشدد کا یہ پہلا بڑا واقعہ ہے اور اس سے کشیدگی میں اضافے کا اندیشہ ہے۔
سعودی وزارت خارجہ نے یمن میں سلامتی اور استحکام کے حصول کے ساتھ ساتھ اقوام متحدہ کی ان تمام کوششوں کی حمایت کا بھی اعادہ کیا ہےجن کا مقصد جنگ بندی کی تجدید اور یمن کے بحران کے جامع سیاسی حل تک پہنچنا ہے۔