عمان کے وزیرتوانائی سالم العوفی نے منگل کے روز پیشین گوئی کی ہے کہ موسم سرما کے بعد تیل کی قیمتیں 90 ڈالر فی بیرل کی حد سے کم ہونے کا امکان ہے۔
انھوں نے مصر کے ساحلی شہر شرم الشیخ میں کوپ 27 موسمیاتی کانفرنس کے موقع پررائٹرز کو بتایا:’’ہمیں یقین نہیں کہ موجودہ قیمتیں پائیدار ہیں‘‘۔
انھوں نے اس یقین کا اظہار کیا کہ سردیوں کے موسم کے بعد قیمتیں نیچے چلی جائیں گی۔ہمیں لگتا ہے کہ عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی فی بیرل قیمتیں 70 سے 80 ڈالر فی بیرل کے درمیان کہیں رہیں گی۔
العوفی نے بتایا کہ عمان نے اپنے بجٹ کے لیے تیل کی قیمت 55 ڈالر فی بیرل مقررکی ہے تاکہ اس طرح قرض کی ادائی کے لیے آرام سے رقم کا بندوبست کیا جاسکے لیکن انھیں نہیں لگتا کہ قیمتیں اتنی زیادہ کم ہوجائیں گی۔
انھوں نے کہا کہ "ہمارے ذمے بہت زیادہ قرض واجب الادا ہے لہِٰذا اگر ہم 55 ڈالر پر بجٹ بناتے ہیں تواس قیمت سے زیادہ کچھ بھی ہوا تو وہ قرض ادا کرنے کی طرف جائے گا‘‘۔
سالم العوفی نے یہ بھی کہا کہ ویانا میں 4 دسمبر کو اوپیک پلس کے آیندہ اجلاس میں یورپ کی پیغام رسانی پرغورکیا جائے گا کہ آیا براعظم کساد میں جا رہا ہے یا نہیں۔
انھوں نے کہا کہ ’’اگر یورپ کا پیغام یہ ہوا کہ وہ اب بھی کساد اور اعلیٰ شرح سود کی توقع کرتا ہے تو ، اوپیک پلس ایک بار پھراس سوال پرغورکرے گا کہ کیا ہمارے پاس ضرورت سے زیادہ سپلائی ہے‘‘۔
اوپیک پلس اتحادنے اپنے پانچ اکتوبر کے اجلاس میں پیداوار میں بیس لاکھ بیرل یومیہ (بی پی ڈی) کمی پر اتفاق کیا تھا۔اس فیصلے نے اوپیک پلس کی مغرب میں کچھ لیڈروں کے ساتھ الفاظ کی جنگ شروع کردی تھی اورامریکی انتظامیہ نے اسے ’تنگ نظری‘ کا شاخسانہ قراردیا ہے۔اس گروپ میں اوپیک کے رکن ممالک اور روس کی قیادت میں غیراوپیک ممالک شامل ہیں۔