بھارت کے ایک مرکزی وزیرکا کہنا ہے کہ کوئلہ ان کے ملک میں کم سے کم سنہ 2040ء تک ایندھن کے طورپر استعمال ہوتا رہے گا اور توانائی کا ایک اہم ذریعہ رہے گا جبکہ مصر میں جاری اقوام متحدہ کے زیراہتمام کوپ 27 کانفرنس میں دنیا کے ممالک سے ایندھن کی صاف ستھری شکلوں کو فروغ دینے کا مطالبہ شدت پکڑگیا ہے۔
بھارت کے کوئلہ کے انچارج وزیر پرل حد جوشی نے پارلیمانی کمیٹی کے روبرو بیان میں کہا کہ کوئلہ توانائی کا ایک سستا ذریعہ ہے اورملک میں اس کی مانگ ابھی تک عروج پرہے۔
جوشی نے کہا:’’اس صورت حال کے پیش نظر بھارت میں مستقبل قریب میں کوئلے سے کسی اور ایندھن کی طرف کوئی منتقلی نہیں ہو رہی ہے۔سنہ2040ء اور اس کے بعد تک اس کا ایندھن کے طور پرایک بڑا کردار ہوگا‘‘۔
مصرکے ساحلی مقام شرم الشیخ میں 18نومبر تک جاری رہنے والے کوپ27 مذاکرات میں اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیوگوتیریس نے کاربن کےاخراج میں کمی کے لیے فوری اقدامات کا مطالبہ کیا ہے۔اس میں عالمی سطح پر2040 تک کوئلے کے استعمال کومرحلہ وار ختم کرنا بھی شامل ہے۔
بھارت ایک طویل عرصے سے کوئلے کوترک کرنے کی مخالفت کرتاچلاآرہا ہے۔اس نے گذشتہ سال برطانیہ کی میزبانی میں منعقدہ کوپ 26 مذاکرات میں چین کے ساتھ مل کراسے چھوڑنے کے مضبوط وعدوں کو روکنے کی تدبیرکی تھی۔
واضح رہے کہ بھارت میں پاورپلانٹس میں ایندھن کے دخول کی کمی کے دوران میں اپریل میں گذشتہ چھے سال سے زیادہ عرصے میں بجلی کا بدترین بحران پیدا ہوگیاتھا۔اس نے صنعتی سرگرمیوں میں خلل ڈالا اور حکومت کوکوئلے کی کان کنی کو تیزکرنے پر مجبور کیا تھا۔
بھارتی حکومت نے ایک بیان میں کہا ہے کہ گرمی کی لہرایئرکنڈیشننگ کے استعمال کو فروغ دیتی ہے اور بجلی کی طلب میں اضافہ کرتی ہے۔کوئلہ بھارت کی بنیادی توانائی کی ضروریات کا 51 فی صد سے زیادہ پورا کرتا ہے اور بجلی کی پیداوار میں اس کا بہ طور ایندھن حصہ قریباً 73 فی صدہوتا ہے۔
دوسری جانب امیرممالک پر بھی دباؤ ہے کہ وہ غریب دنیا کو صاف ستھرے ایندھن کی طرف منتقلی کے عمل میں مالی اعانت مہیّا کریں۔امریکا کے موسمیاتی تبدیلی کے سفیر جان کیری نے بدھ کے روزکمپنیوں کے لیے کاربن کریڈٹ خریدنے کے منصوبوں کا اعلان کیا ہے تاکہ کوئلے سے پیداہونے والی بجلی کے منصوبوں کو ترک کرنے والے ممالک کی مدد کی جاسکے۔