اسرائیلی وزیر اعظم یائر لاپیڈ نے جمعرات کو کہا ہے کہ پورے خطے میں ایرانی خطرات معمولی نہیں ہیں اور ہم طاقت کے استعمال سے نہیں ہچکچائیں گے۔
لاپیڈ کے ترجمان نے ان کے حوالے سے کہا کہ گزشتہ ایک سال کے دوران ہم نے ایرانی جوہری معاہدے کی طرف واپسی روک دی اور شام اور لبنان میں حزب اللہ اور ایرانیوں کی بڑھتی ہوئی موجودگی کے خلاف اپنی جنگ جاری رکھی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ریاست اسرائیل کو پورے خطے میں ایرانی تشکیل سے لبنان سے حزب اللہ کے زیادہ درست مقام تک پہنچنے والے میزائلوں سے اور غزہ سے آنے والے راکٹوں سے نمایاں خطرات کا سامنا ہے۔
لاپیڈ نے اشارہ کیا کہ ان کا ملک اپنے شہریوں کی حفاظت کے لیے طاقت کے استعمال سے دریغ نہیں کرے گا۔
ایٹمی تنصیبات پر حملہ
اخبار "ٹائمز آف اسرائیل" کی رپورٹ کے مطابق اسرائیلی وزیر دفاع بینی گانٹز نے ایران میں جوہری تنصیبات کے خلاف کارروائی کرنے کی اسرائیل کی صلاحیت پر زور دیا تھا اور کہا تھا کہ اسرائیل کو ایران کے جوہری تنصیبات کے خلاف کارروائی کی صلاحیت کو بڑھانا جاری رکھنا چاہیے۔
گانٹز نے بدھ کو یہ بھی کہا کہ اسرائیل نے تیاری حاصل کر لی ہے اور اس کو طویل مدتی کارروائیوں کی مزید صلاحیتیں بھی ہوگئی ہیں۔
انہوں نے کہا اسرائیل ایران کے جوہری پروگرام کو شدید نقصان پہنچانے اور اس میں تاخیر کرانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ انہوں نے ایران کے ساتھ جوہری معاہدے کی بحالی کو "تاخیر کا حربہ" قرار دیا۔
تمام اختیارات دستیاب ہیں
واضح رہے اسرائیلی حکام نے بارہا اس بات پر زور دیا ہے کہ ایران کو جوہری ہتھیاروں کے حصول سے روکنے کے لیے ان کے پاس تمام آپشن میز پر ہیں۔ بینی گانٹز نے گزشتہ اگست میں اعلان کیا تھا کہ اسرائیل کو ایران کے جوہری پروگرام کے خلاف یکطرفہ فوجی کارروائی کے لیے بھی تیار رہنا چاہیے۔
-
اسرائیلی بیس سال سے ڈرون استعمال کر رہا ہے: اسرائیلی جرنیل کا انکشاف
غزہ، یمن اور ایران میں بروئے کار، جاسوسی کے علاوہ میزائل حملے میں استعمال
مشرق وسطی -
اسرائیل کا شام میں ایرانی اسلحہ لے جانیوالے ٹرک قافلے حملہ، 10افراد ہلاک
اسرائیل نے ایرانی اسلحے کے قافلے کو عراقی سرحد عبور کرنے کے بعد نشانہ بنایا ہے۔ ...
مشرق وسطی -
اسرائیلی صدر نئے وزیر اعظم کی نامزدگی کے لیے آج مشاورت شروع کریں گے
اسرائیلی صدر اسحاق ہرتسوغ آج بدھ کے روز وزارت عظمیٰ کے ممکنہ امیدوار کے لیے ...
مشرق وسطی