سعودی عرب کے فارورڈ فہدالمولد کو ڈوپنگ کیس کی وجہ سے احتیاطی تدابیرکے طورپرقطر میں ہونے والے فٹ بال عالمی کپ کے اسکواڈ سے باہر کردیا گیا ہے۔
الشباب کے فارورڈ پر سعودی عرب کی اینٹی ڈوپنگ کمیٹی نے گذشتہ مئی میں 18 ماہ کی پابندی عاید کی تھی کیونکہ ان کا ممنوعہ نشہ آوردوا فروسیمائڈ کے ٹیسٹ کا نتیجہ مثبت رہا تھا۔
تاہم، سعودی عرب کے کھیلوں کے ثالثی مرکزنے اگست کے آخرمیں ان کی پابندی کو کم کردیا، اور فیصلہ کیا کہ جتنا عرصہ انھیں معطل رکھاگیا تھا،ان پرپابندی کی وہی مدت کافی ہے۔
ورلڈ اینٹی ڈوپنگ ایجنسی (واڈا) نے اس فیصلے کے خلاف اپیل کی ہے۔مقامی میڈیا کی رپورٹس کے مطابق 28 سالہ کھلاڑی پرطویل پابندی کی توقع ہے۔واضح رہے کہ انھیں 2019 میں بھی ڈوپنگ کے الزام میں ایک سال کے لیے ٹیم سے معطل کیا گیا تھا۔
سعودی ٹیم نے ٹویٹرپرکہا کہ کوچ ہروے رینارڈ نے’’واڈا کی اپیل پرپیش رفت کا جائزہ لینے اورسعودی ایف اے لیگل ڈپارٹمنٹ سے مشاورت کے بعد حفظ ماتقدم کے طورپر المولد کی دستبرداری کا فیصلہ کیا ہے‘‘۔
دریں اثناء کوچ رینارڈ نے الشباب کے تجربہ کار فارورڈ نواف العابد کو المولد کی جگہ ٹیم میں شامل کرنے کے لیے طلب کیا ہے۔