ایران مظاہرے

یورپی یونین کی ایرانی وزیرداخلہ، سربراہ پاسداران انقلاب اورپریس ٹی وی پرپابندیاں عاید

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

یورپی یونین نے ایران میں مظاہرین کے خلاف کریک ڈاؤن کے ردعمل میں وزیر داخلہ،سپاہِ پاسداران انقلاب کے سربراہ اورسرکاری ٹیلی ویژن پریس ٹی وی سمیت 29 افراد اور تین تنظیموں پرنئی پابندیاں عاید کرنے کا اعلان کیا ہے۔

یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کے سربراہ جوزف بوریل نے سوموارکوایک بیان میں کہا ہے کہ ’’تنظیم ایران میں مظاہرین کے خلاف ناقابلِ قبول پرتشدد کریک ڈاؤن کی شدیدمذمت کرتی ہے۔ہم ایرانی عوام کے ساتھ کھڑے ہیں اوران کے پُرامن احتجاج کے حق کی حمایت کرتے ہیں،ان کے مطالبات اور خیالات کو آزادانہ طور پر آوازدیتے ہیں۔ہم آج ایرانی مظاہرین کو دبانے کے ذمہ دارحکام اور اداروں پراضافی پابندیاں عایدکررہے ہیں‘‘۔

ایران میں 16 ستمبرکو 22 سالہ خاتون مہسا امینی کی پولیس کی حراست میں موت کے بعد سے احتجاجی مظاہرے جاری ہیں۔مظاہرین ملک گیراحتجاج میں ایرانی حکومت کے خاتمے کا مطالبہ کررہے ہیں اور رہبرِاعلیٰ آیت اللہ علی خامنہ ای سمیت اعلیٰ عہدے داروں کے خلاف سخت نعرے بازی کررہے ہیں۔

حکومت نے اس کے جواب میں مظاہرین کے خلاف پرتشدد کریک ڈاؤن کیاہے۔سکیورٹی فورسز کے ساتھ جھڑپوں میں تین سو سے زیادہ افراد ہلاک ہوچکے ہیں اور ہزاروں کو گرفتارکرلیا گیا ہے۔

یورپی یونین نے مظاہرین کے خلاف اس کریک ڈاؤن میں کردار پر ایرانی قانون نافذ کرنے والی فورسز (ایل ای ایف) اور پاسداران انقلاب (آئی آر جی سی) کے صوبائی سربراہوں کے ساتھ ساتھ ایران کی برّی فوج کے کمانڈر بریگیڈیئرجنرل کیومرس حیدری اورحالیہ احتجاجی ریلیوں کے دوران میں لوگوں پروحشیانہ جبروتشدد کرنے والے اسکواڈ کے چارارکان پرپابندیاں عاید کی ہیں۔

یورپی یونین کی ان تازہ پابندیوں میں ایران کے سرکاری ٹیلی ویژن پریس ٹی وی کو بھی ہدف بنایا گیا ہے اور اس کو زیرِحراست افراد کے جبری اعترافی بیانات کی تیاری اورنشرکرنے کاذمہ دارقراردیا گیا ہے۔

یورپی یونین نے ایرانی سائبرپولیس کے سربراہ وحید محمد ناصر ماجد پر بھی پابندی عاید کی ہے۔ان پر’’ایرانی حکومت پرآن لائن تنقید کا اظہار کرنے والے لوگوں کو من مانے طریقے سے گرفتار کرنےکا الزام ہے۔

یورپی یونین نے ایران کے وزیرداخلہ احمد وحیدی کو بھی پابندیوں کی فہرست میں نامزد کیا ہے۔وہ قانون نافذ کرنے والی فورسز (ایل ای ایف) کے انچارج ہیں۔ان فورسز نے حالیہ احتجاجی تحریک میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کاارتکاب کیا ہے‘‘۔

ان پابندیوں کی زد میں آنے والے ایرانی عہدے دار،افراد یورپی یونین کے رکن ممالک کا سفرنہیں کرسکیں گے۔یورپ میں ان کےاثاثے منجمد کرلیے جائیں گے اور یورپی یونین کے شہری اور کمپنیاں ممنوعہ فہرست میں شامل افراداور ایرانی اداروں کے ساتھ کوئی مالی لین دین نہیں کرسکیں گے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں