بھارت کے نجی شعبے کے تیار کر دہ راکٹ کی کامیاب لانچنگ ، سنگ میل قرار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

بھارت میں پہلی بار اس کے نجی شعبے کی طرف سے تیار کیا گیا راکٹ لانچ کر کیا ہے۔ راکٹ وکرم ایس کا تجربہ جمعہ کے روز کیا گیا ہے۔ بھارت میں اسے ایک سنگ میل قرار دیا جارہا ہے۔

اس سے ملک میں تجارتی بنیادوں پر ایک خلائی صنعت کی راہ ہموار ہو گی۔ یہ لاگت کے اعتبار سے بھی کم خرچ بالا نشین ثابت ہو سکتا ہے۔

اس راکٹ کے تجربے کے بعد بتایا گیا ہے کہ یہ 545 کلو گرام کا حمال ہے اور 'سپیس ستارٹ اپ سکائی روٹ' نے اسے تیار کیا ہے۔ اس کی لانچنگ بھارت کی سرکاری سپیس ایجنسی کے لانچنگ پیڈ سے جمعہ کے روز کی گئی ہے۔

یہ راکٹ آواز سے پانچ گنا زیادہ کی رفتار سے اپنے ہدف تک پہنچنے کی صلاحییت رکھتا ہے۔ راکٹ 100 کلو میٹر تک 83 کلو گرام کا وزن لے جا سکتا ہے۔

بتایا گیا ہے کہ سکائی روٹ کی ٹیم نے راکٹ کے لیے 80 کلومیٹر کی رینج کا ہدف طے کیا تھا۔ لیکن یہ ایک سو کلو میٹر تک کے لیے کامیاب رہا ہے۔

اس کی لانچنگ سے متعلق ایک ویڈو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ یہ سپیس سنٹر سے اڑ رہا ہے اور اپنے پیچھے ایک ایک دھویں اور بڑی مقدار میں نکلتے ہین۔ سرکاری حکام کے مطابق یہ راکت اپنی لاانچنگ کے پانچ منٹ بعد خلیج بنگال میں جا گرا۔

بھارت سرکار کی طرف سے نجی شعبے میں خلائی کمپنیوں کے ساتھ رابطہ کاری کے ذمہ دار پون گوئینکا نے کہا 'میں اس راکت کی کامیاب لانچگ پر بہت خوش ہوں۔ '

سکائی روٹ نامی ادارے کا آغاز پون چندنا اور بھارتھ ڈاکا نے کیا تھا۔ ان کا ہدف نجی شعبے میں خلائی ترقی کو کم لاگت کے ساتھ آگے بڑھانا تھا۔ یہ نوے فیصد تک لاگت کو نیچے لانے کے ہدف کے ساتھ شروع کیا گیا پراجیکٹ ہے۔

اس راکٹ کے ڈیزائن کے مطابق توقع کی جارہی تھی ا س کی اسمبلنگ 72 گھنٹوں سے کم میں مکمل کر لی گئی ہے۔ منصوبہ یہ ہے کہ اگلے سال تک یہ راکٹ سیٹلائٹس کو لے کر خلا کے لیے بروئے کار آسکے۔ جدت اور کفایت اس نجی شعبے کی ترجیح میں شامل ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں