سعودی عرب کا یمن میں غذائی تحفظ کے لیے عالمی خوراک پروگرام سے دوکروڑڈالرکا سمجھوتا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

سعودی عرب کے انسانی حقوق کے شعبے نے یمن میں غذائی تحفظ میں اضافے کے لیے عالمی خوراک پروگرام (ڈبلیو ایف پی) کے ساتھ دوکروڑ ڈالر کے ایک سمجھوتے پردست خط کیے ہیں۔

سعودی پریس ایجنسی کی ایک رپورٹ کے مطابق شاہ سلمان انسانی امداد اور ریلیف مرکز(کے ایس ریلیف) کی امداد سے 5 لاکھ 24 ہزار 849 افراد کوفائدہ پہنچےگا۔

مشترکہ تعاون کے اس سمجھوتے پرکے ایس ریلیف کے اسسٹنٹ جنرل سپروائزر برائے آپریشنز اینڈ پروگرامز احمدالبیز اورجی سی سی میں ڈبلیو ایف پی کے نمائندے مجید یحییٰ نے ویڈیو کانفرنس کے ذریعے دست خط کیے۔

سعودی پریس ایجنسی نے البیزکے حوالے سے بتایا کہ 16,000 ٹن سے زیادہ گندم کا آٹا خریدا جائے گا اور یمنی شہریوں میں تقسیم کیا جائے گا تاکہ ’’غذائی تحفظ کو بہتربنایا جاسکے، معاش اور لچک کو بہتر بنایا جاسکے اور عدن،الضالع، حدیدہ، مآرب، شبوہ، تعز اور حجہ میں شدید غذائی عدم تحفظ کا شکار افرادکو بھوک سے بچایاجاسکے‘‘۔

واضح رہے کہ سعودی عرب نے2015 سے اب تک یمن میں ڈبلیو ایف پی کے ساتھ ایک ارب 16 کروڑ80 لاکھ ڈالر کا مالی تعاون کیا ہے۔

گذشتہ ماہ کے آخر میں عرب مالیاتی فنڈ نے یمنی حکومت کے ساتھ ایک ارب ڈالر کے ایک معاہدے پر دست خط کیے تھے۔اس کا مقصد سعودی عرب کی سرپرستی میں معاشی اور مالیاتی اصلاحات کے پروگرام کی معاونت کرنا تھا۔

سعودی عرب کی جانب سے اس معاہدے کی اسپانسرشپ یمنی معیشت کے لیے اس کی حمایت میں توسیع کی عکاس ہے۔سنہ 2001 سے2022 تک یمن کو مہیا کی جانے والی کل بیرونی امداد میں سے قریباً30 فی صد صرف سعودی عرب نے مہیا کی ہے۔وہ یمن سمیت ضرورت مند ممالک کوعطیات دینے والے ممالک میں سرفہرست ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں