سعودی عرب نے ’’آئسیسکو‘‘ میں رکنیت کیلئے اپنی حکمت عملی پیش کردی

حکمت عملی میں 75 نئے اقدامات، 14 شراکت داریاں اور 4 سفارشات شامل ہیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

سعودی قومی کمیٹی برائے تعلیم، ثقافت و سائنس نے اسلامک ورلڈ ایجوکیشنل، سائنٹیفک اینڈ کلچرل آرگنائزیشن (ICESCO) میں اپنی رکنیت کے لیے عمومی حکمت عملی کی خصوصیات پیش کردیں۔ خیال کیا جا رہا ہے کہ حکمت عملی کی دفعات 2023 سے 2025 کے عرصے کے دوران نافذ کر دی جائیں گی۔

یہ حکمت عملی وزارت تعلیم برائے بین الاقوامی تعاون کے انڈر سیکرٹری ڈاکٹر صالح القسومی اور سعودی قومی کمیٹی برائے تعلیم، ثقافت اور سائنس کے سیکرٹری جنرل احمد البلیھد کی نگرانی میں پیش کی گئی۔ وزیر ثقافت اور قومی کمیٹی برائے تعلیم، سائنس اور ثقافت کے چیئرمین شہزادہ بدر بن عبداللہ بن فرحان کی سرپرستی بھی موجود رہی۔

اس حکمت عملی کو ’’آئسیسکو‘‘ کی ایگزیکٹو کونسل کی میزبانی کے موقع پر اس کے 43ویں اجلاس میں پیش کیا گیا۔ یہ اجسا 23 اور 24 دسمبر کو مراکش کی میزبانی میں دارالحکومت رباط میں منعقد کیا گیا۔ "آئسیسکو" میں سعودی عرب کی موجودگی کی حکمت عملی پانچ اہم نکات پر مشتمل تھی، پہلا نکتہ تنظیم میں سعودی عرب کی تزویراتی شمولیت پر مرکوز تھا۔

دوسرے نکتہ مستقبل کے نقطہ نظر لئے ہوئے تھا۔ تیسرے نکتہ میں 75 اقدامات تجویز کئے گئے تھے، چوتھی شق میں 14 شراکت داریوں کا اظہار کیا گیا اور آخری پانچویں نکتہ میں 4 سفارشات پیش کی گئیں۔

بنیادی مقصد

سعودی حکمت عملی کا بنیادی ہدف ’’آئسیسکو‘‘ کی اس طرح سے حمایت کرنا تھا جس سے ’’آئسیسکو‘‘ اسلامی دنیا کے ملکوں کو تعلیم، ثفافت، سائنس، معلومات اور مواصلات کے شعبوں میں مدد فراہم کر سکے۔ اس حکمت عملی کے تحت مستقبل کے ویژن اس حکمت عملی پر مبنی تھا کہ ’’آئسیسکو‘‘ کی مالی مدد بڑھائی جائے جس میں سعودی عرب تنظیم کے کاموں میں شرکت کرے۔ سعودی ماہرین کی شرکت کے ساتھ تنظیم کے علاقائی اور عالمی کردار کو بڑھایا جائے اور آخر میں متعلقہ مقامی حکام کے ساتھ میں سٹریٹجک شراکت داری کے ذریعے پروگراموں اور اقدامات میں تنظیم کی شرکت کو بڑھایا جائے۔

اقدامات اور شراکت داری

سعودی حکمت عملی کے تحت اعلان کردہ تجاویز پر بات کی جائے تو اس میں قومی کمیٹی کی طرف سے اپنائی گئی 16 تجاویز شامل ہیں۔ یہ تجاویز سعودی عرب کی تنظیم میں موجودگی کو مستحکم کرنے اس کے کردار کو مضبوط بنانے پر مرکوز ہیں۔

5 اقدامات جن کی نگرانی جنرل آرگنائزیشن برائے تکنیکی اور پیشہ ورانہ تربیت کررہی ہے۔ 3 اقدامات سعودی اتھارٹی برائے ڈیٹا اور مصنوعی ذہانت کے ذریعے عمل میں لائے جائی گے، 3 اقدامات وزارت ماحولیات، پانی اور زراعت سے متعلق ہیں۔ 7 اقدامات وزارت اطلاعات کے ذریعے انجام پائیں گے۔ 15 اقدامات وزارت تعلیم کے ذریعے، 22 اقدامات وزارت ثقافت، 2 اقدامات کنگ عبد العزیز سائنس و ٹیکنالوجی سٹی اور ایک قدم مسک فاؤنڈیشن کے تحت انجام دیا جائے گا۔

سٹریٹجک شراکت داری

حکمت عملی میں شامل "شراکت داریوں" کی فہرست میں 14 شراکت داریاں اور مفاہمت کی یادداشتیں شامل ہیں۔ جن میں اہم ’’آئسیسکو‘‘ اور سعودی وزارت ثقافت،وزارت مواصلات اور متعدد تعلیمی، سائنسی اور مالیاتی اداروں کے درمیان ہونے والی مفاہمتی یادداشتیں یا شراکت داریاں ہیں۔

آخری نمبر پر چار سفارشات کی گئی ہیں۔ جن میں سے اہم شقوں کے تحت متعلقہ حکام کے ساتھ ملکر سٹریٹجک پلان کو نافذ کرنا، مجوزہ سرگرمیوں اور پروگراموں کا تعین کرنے کیلئے متعلقہ قومی حکام ک ساتھ بات چیت کرنا شامل ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں