افغانستان وطالبان

یواے ای: طالبان کی افغانستان میں خواتین پراین جی اوزمیں کام کرنے پرعایدپابندی کی مذمت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

متحدہ عرب امارات (یو اے ای) نے طالبان کے افغانستان بھرمیں خواتین کے غیرسرکاری تنظیموں (این جی اوز) میں کام کرنے پر پابندی عاید کرنے کے فیصلے کی مذمت کی ہے۔

افغانستان کی وزارت اقتصادیات نے 24 دسمبر کو تمام غیرسرکاری تنظیموں کو حکم دیا تھا کہ وہ تاحکم ثانی خواتین عملہ کو کام کرنے کی اجازت نہ دیں۔

اقوام متحدہ میں متحدہ عرب امارات کی مستقل مندوب اور خارجہ امور کی معاون وزیر لانا زکی نسیبہ نے خبردارکیا ہے کہ ’’اس فیصلہ سے ملک میں انسانی امداد کی فراہمی میں مزید رکاوٹ پیدا ہوگی اور خواتین، بچوں اور بزرگوں سمیت معاشرے میں سب سے زیادہ کمزورافراد متاثر ہوں گے‘‘۔

انھوں نے کہا کہ افغانستان کی دو تہائی آبادی کو انسانی امداد کی اشد ضرورت ہے اوران میں 60 لاکھ افراد کوفاقہ کشی کا خطرہ ہے۔انھوں نے مزید کہا کہ اسلام خواتین کے کردار کا احترام کرتا ہے اور ان کے حقوق کی پاسداری کرتا ہے۔

طالبان کا نیاحکم براہ راست اقوام متحدہ پر لاگو نہیں ہوتا ہے، لیکن اس کے بہت سے پروگرام مقامی اور بین الاقوامی این جی اوز کے ذریعے انجام دیے جاتے ہیں۔

متحدہ عرب امارات نے طالبان کے زیر انتظام حکومت کی جانب سے طالبات اور خواتین کی یونیورسٹیوں تک رسائی معطل کرنے کے فیصلے کی بھی مذمت کی تھی۔

متحدہ عرب امارات کے وزیر برائے امورخارجہ و بین الاقوامی تعاون شیخ عبداللہ بن زایدآل نہیان نے اپنے پاکستانی ہم منصب بلاول بھٹو زرداری سے ٹیلی فون پرطالبان کے اس فیصلے پر تبادلہ خیال کیا ہے۔

دونوں وزراء نے اس بات پرزور دیا کہ اسلام ایک مذہب کی حیثیت سے خواتین پرخاصی توجہ دیتا ہے، انھیں ایک مراعات یافتہ مقام دیتا ہے اور ان کے حقوق کا تحفظ کرتا ہے۔انھوں نے خواتین کے حقوق کی ضمانت دینے کی ضرورت کے ساتھ ساتھ زندگی کے تمام پہلوؤں میں خواتین اور لڑکیوں کی مکمل اور مساوی شرکت کی اہمیت کا اعادہ کیا۔

سعودی عرب کی وزارت خارجہ نے بھی طالبان سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اس اقدام کو واپس لیں۔

افغانستان میں اقوام متحدہ کے مشن کے قائم مقام سربراہ نے گذشتہ روزطالبان انتظامیہ کے قائم مقام وزیراقتصادیات سے کہا تھا کہ وہ این جی اوز میں کام کرنے والی خواتین پر پابندی کے فیصلے کو واپس لیں۔

مشن نے ایک بیان میں کہا کہ لاکھوں افغانوں کو انسانی امداد کی ضرورت ہے،اس لیے اس ضمن میں رکاوٹوں کو دور کرنا ضروری ہے، یو این اے ایم اے کے قائم مقام سربراہ اور انسانی ہمدردی کے رابطہ کار رمیزالاکبروف نے وزیر اقتصادیات محمد حنیف سے ملاقات کی ہے۔

جنگ زدہ ملک میں انسانی امدادکا مقصد فوری ضروریات کو پورا کرنا ہے اوراس سے لاکھوں لوگوں کوضروریات زندگی مہیا ہوئی ہیں۔ بین الاقوامی امدادی کمیٹی کے مطابق افغانستان کی نصف سے زیادہ آبادی انسانی بنیادوں پر دی جانے والی امداد پر انحصار کرتی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں