شمالی سعودی عرب میں تبوک کے علاقے میں جبل اللوز کی چوٹیوں کو برف نے ڈھانپ لیا اور اس کی دلکش تصویریں نظر آ گئیں جنہوں نے دیکھنے والوں کو مسحور کردیا ہے۔
تبو ک کو اس وقت شدید سردی کا سامنا ہے اور برف باری شروع ہوگئی ہے۔ تبوک کے معروف جبال اللوز نے برف باری کی وجہ سے سفید چادر اوڑھ لی ہے۔ یہاں کی چوٹیوں پر عام طور پر ہر سال برفباری ہوتی ہے۔
شمال میں موسمیات کے قومی مرکز کے ڈائریکٹر فرحان العنزی نے سعودی پریس ایجنسی (SPA) کو بتایا کہ مملکت کے شمال میں برف باری خاص طور پر "بادام کے پہاڑ" یا جبل اللوز اور اس کے آس پاس کے علاقوں پر منحصر ہے۔ اس کے دو اہم عوامل ہیں ۔ پہلا عامل مناسب نمی کی دستیابی کے ساتھ قطبی ڈپریشن کی گہرائی اور حرکت کا راستہ ہے۔ چونکہ قطبی ڈپریشن زیادہ تر شمال مغربی علاقے علقان اور جبل اللوز کو چھوتا ہے۔ اس کا اثر شاذ و نادر ہی تبوک کے علاقے کے جنوب تک پہنچتا ہے جہاں الحرۃ پہاڑ ہیں۔
#تبوك #ثلوج_تبوك#جبال_اللوز
— عبدالرحمن العطوي (@atawi1147) December 27, 2022
تساقط خفيف للثلوج على قمم جبال اللوز صباح
اليوم الثلاثاء وحسب مايتداول الطريق مغلق إلى جبال اللوز وهذا يدعو إلى عدم المجازافة والتعني بالذهاب للثلوج . pic.twitter.com/yiBTre8fBH
دوسری بنیاد انجماد کی لکیر کے نزول کی حد ہے، کیونکہ قطبی دباؤ کے ساتھ ٹروپوس کی سطح میں کمی واقع ہوتی ہے اور اس طرح ماحولیاتی تہوں کی سطح میں کمی واقع ہوتی ہے۔
هكذا اصبحت #جبال_اللوز اليوم ❄️ 🤩
— محمد الهذلي 🇸🇦 (@Mal_hothaly) December 27, 2022
.#ثلوج_تبوك pic.twitter.com/KTN6OtYPi3
العنزی نے کہا کہ جن عوام سے زمینی سطح پر برف باری کا امکان بڑھتا ہے ان میں موسمی نقشوں پر کھینچی گئی لکیریں ہیں جو تہہ کے بڑھنے یا گرنے کی حد کو ظاہر کرتی ہیں۔ اس طرح دیکھا جاتا ہے کہ ڈپریشن کتنا گہرا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اصل پیمائش کسی بھی سطح پر صفر ڈگری سیلسیس درجہ حرارت ہے۔
دوسری جانب تبوک کے علاقے میں بہت سے سرکاری اداروں نے برف باری کے مقامات کی طرف جانے والی سڑکوں کے ساتھ ساتھ لوگوں کی نقل و حرکت کی شدت کے نتیجے میں پیش آنے والے کسی بھی خطرے کا سامنا کرنے کے لیے اپنی تیاریاں تیز کردی ہیں۔ ان مقامات پر آنے والے سیاحوں کی رہنمائی اور ان کے تحفظ کیلئے ارتکاڑ بڑھا دیا گیا ہے۔