فرانسیسی طنزیہ جریدے "چارلی ہیبڈو" نے بدھ کے روز اپنے ایک خصوصی شمارے میں ایران کی اعلیٰ ترین سیاسی اور مذہبی شخصیت اور سپریم لیڈر علی خامنہ ای کے کارٹون شائع کر دئیے۔
میگزین کی جانب سے 16 ستمبر سے ایران میں جاری مظاہروں کی حمایت میں خامنہ ای کے کے کارٹونوں کے مقابلے کا اعلان کیا گیا تھا۔ یاد رہے ایرانی میں اخلاقی پولیس نے لباس کے ضابطوں پر عمل نہ کرنے کی بنا پر خاتون مہسا امینی کو گرفتار کرلیا تھا جس کی مبینہ طور پر پولیس کی حراست میں ہی موت ہو گئی تھی جس نے ایرانی عوام کو مشتعل کر دیا اور انہوں نے حکومت کے خلاف احتجاج شروع کر دیا۔ یہ احتجاج ساڑھے تین ماہ سے زائد عرصہ سے مسلسل جاری ہے۔
فرانسیسی میگزین کی طرف سے شائع کردہ ڈرائنگ کی تعداد تیس سے تجاوز کر گئی ہیں، میگزین نے دسمبر میں شروع کیے گئے مقابلے کے فریم ورک میں قارئین سے موصول ہونے والی 300 سے زیادہ ڈرائنگز میں سے ان ڈرائنگز کا انتخاب کیا تھا۔ مقابلے کا عنوان ’’اپنی آزادی کے لیے لڑنے والے ایرانیوں کی حمایت کرنے کے لیےکارٹون بنانے کا عالمی مقابلہ‘‘ تھا۔ اس مقابلہ میں خامنہ ای کو ہدف بنایا گیا تھا۔
ڈرائنگز میں خامنہ ای کو مختلف پوز میں دکھایا گیا، خامنہ ای کو مہلک ہتھیار اور دیگر چیزیں پکڑے دکھایا گیا۔ بعض کارٹونز میں وہ مظاہرین کی طرف سے مار پیٹ اور گھونسے مارتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں، سب سے اہم خیال جس پر مصوروں نے کام کیا وہ تھا خامنہ ای کو احتجاج کرنے والی خواتین کے بالوں سے لٹکایا گیا تھا۔
دوسری طرف تہران نے بدھ کے روز سپریم لیڈر خامنہ ای کے کارٹونوں کو "توہین آمیز" قرار دیا اور فرانسیسی حکومت کو فیصلہ کن ردعمل سے خبردار کیا۔ ایرانی وزیر خارجہ حسین امیر عبداللہیان نے ٹویٹر پر لکھا فرانسیسی میگزین کی طرف سے سیاسی اور مذہبی اتھارٹی کے خلاف شروع کی گئی توہین آمیز اور نامناسب کارروائی فیصلہ کن اور موثر ردعمل کے بغیر نہیں رہے گی۔
ہم فرانسیسی حکومت کو اپنی حدود سے تجاوز کرنے کی اجازت نہیں دیں گے۔ انہوں نے یقیناً ایک غلط راستہ چنا ہے۔