ایرانی مظاہرے

ایران میں مزید ایک صحافی گرفتار، تین ماہ کے دوران متعدد حراست میں لیے جا چکے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

ایران میں گزشتہ روز ایک اور صحافی کو حراست میں لے لیے گیا ہے۔ اب تک ایسے متعدد صحافیوں کو گرفتار کیا جا چکا ہے۔ جنہوں نے ہلاک ہونے والے مظاہرین یا گرفتار شدگان کے اہل خانہ سے انٹرویو کیے تھے۔ ایرانی حکام نے سزا ئے موت پانے والے مظاہرین کے اہل خانہ سے ملاقات کرنے اور ان کے جذبات منظر عام پر لانے والے متعدد اخبار نویسوں کو بھی گرفتار کیا ہے۔

اب تک 14 ایرانیوں کو مظاہروں میں حصہ لینے اور دیگر الزامات کے تحت گرفتاری کے بعد سزائے موت سنائی جا چکی ہے۔ ان سب نے سولہ ستمبر 2022 سے لے کر مختلف دنوں میں ایران کے مختلف شہروں میں احتجاجی مظاہروں میں حصہ لیا تھا تاکہ بائیس سالہ مہسا امینی کی پولیس حراست میں ہلاکت کے خلاف آواز اٹھا سکیں۔

مہسا امینی کی ہلاکت سے شروع ہونے والا یہ احتجاج بعد اب ایرانی حکومت کے خلاف ایک موثر احتجاج میں تبدیل ہوچکاہے۔ روزنامہ اعتماد کے سیاسی امور کے سربراہ کو بھی ایسے متاثرہ خاندانوں کے افراد سے انٹرویو کرنے کے جرم میں ایک روز پہلے گرفتار کیا گیا ہے۔ یہ بات روزنامہ اعتماد نے اپنی ویب سائٹ پر بتائی ہے۔

واضح رہے صرف پچھلے ماہ دسمبر کے دوران دو احتجاجیوں کو پھانسی دی گئی ہے۔ ان دونوں کی عمر 23 سال تھی۔ ایرانی حکام ان مظاہروں کو بلووں اور فسادات کا نام دیتے ہیں۔

سولہ ستمبر سے اب تک 516 سے زائد ایرانی شہری ان مظاہروں کے دوران ہلاک ہو چکے ہیں۔ جن میں خواتین اور بچوں کے علاوہ سیکیورٹی اہلکار بھی شامل ہیں۔ ایرانی حکام کا دعویٰ ہے کہ اب تک 200 سکیورٹی اہلکار بھی ہلاک ہو چکے ہیں۔

بیرون ملک کام کرنے والے اور ایران میں انسانی حقوق کی نگرانی کرنے والے اداروں کے مطابق مزید کئی افراد کو ایرانی عدالتوں سے سزائے موت سنائے جانے کا اندیشہ ہے

روزنامہ اعتماد کے سایسی امور کے انچارج صحافی مہدی کی اہلیہ کا کہنا ہے کہ ان کے میاں کی گرفتاری کے بعد ان کے موبائل فون سمیت ان کی دوسری ذاتی اشیا بھی گرفتار کرنے والوں نے اپنے قبضے میں لے لی ہیں۔

'شرق' ایک اور اصلاح پسند اخبار ہے۔ اس نے ایسے 40 صحافیوں اور اخباری فوٹو گرافرز کی فرست شائع کی ہے جنہیں اب تک ایرانی حکام نے گرفتار کیا ہے۔ مقامی ذرائع ابلاغ ان کے علاوہ بھی متعدد اخبار نویسوں کی گرفتاریاں رپورٹ کر چکے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں