حکومت مخالف مظاہرین کی حمایت کا شبہ برازیلی صدر نے آرمی چیف برطرف کر دیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

برازیل کے صدر لوئیز لولا ڈی سلوا نے فوج کے سربراہ کو برطرف کر دیا ہے۔ یہ برطرفی دارالحکومت میں مظاہرین کی طرف سے پارلیمنٹ، صدارتی محل اور سپریم کورٹ پر دھاوا بولنے کے واقعے کے دو ہفتے بعد عمل میں لائی گئی ہے۔

اس سے قبل ہفتے کے روز برازیل کے اخبار "فولہا ڈی ساؤ پالو" اور گلوبون نیوز ٹی وی نیٹ ورک نے اررودا کو برطرف کرنے کا اعلان کیا تھا جو 28 دسمبر سے آرمی چیف تھے۔ ذرائع نے بتایا کہ برطرف کیے جانے والے آرمی چیف کی جگہ صدر کے قریب سمجھے جانے والے ملٹری کمانڈر جنرل ٹومس ربیریو پائیوا کو نیا آرمی چیف تعینات کیا جا رہا ہے۔ جنرل اس وقت ملک کے جنوب مشرق میں فوج کے کمانڈر تعینات ہیں۔

برازیل کی فوج اور وزارت دفاع نے فوری طور پر اس معاملے پر کوئی تبصرہ نہیں کیا۔

لولا نے گذشتہ ہفتے کہا تھا کہ انٹیلی جنس سروسز 8 جنوری کو اس وقت ناکام ہوئیں جب سابق انتہائی دائیں بازو کے صدر جیر بولسونارو کے حامیوں نے برازیلیا میں سرکاری عمارتوں پر دھاوا بول دیا۔

لولا نے کہا تھا کہ انہیں مسلح افواج کے ارکان کے بغاوت میں ملوث ہونے کا شبہ ہے۔

آرمی چیف جنرل جولیو سیزر ڈی اروڈا نے سابق صدر جائیر بولسونارو کی مدت ختم ہونے سے چند دن قبل 30 دسمبر کو فوج کی کمان سنبھالی تھی۔

خیال رہے کہ برازیل کے دارالحکومت میں اہم سرکاری عمارتوں پر مظاہرین کے حملوں کے بعد ملک کی ایک عدالت نے اعلیٰ عہدوں پر تعینات سرکاری افسران کی گرفتاری کا حکم دے رکھا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں