سعودی عرب پہلی مرتبہ یونیسکوکی عالمی ثقافتی ورثہ کمیٹی کا صدرمنتخب

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

سعودی عرب اس سال پہلی مرتبہ الریاض میں یونیسکو کے عالمی ثقافتی ورثہ کمیشن کے 45 ویں اجلاس کی میزبانی کرے گا۔

سعودی پریس ایجنسی کی ایک رپورٹ کے مطابق عالمی ادارے کے ایک متفقہ فیصلے میں سعودی عرب کو عالمی ثقافتی ورثہ کمیٹی کا باضابطہ چیئرمین قراردیا گیا ہے۔اس کی سربراہ شہزادی حیفا بنت عبدالعزیزالمقرن ہیں۔وہ یونیسکو میں سعودی عرب کی مستقل مندوب اور یونیسکو کی پروگرامز اور خارجہ تعلقات کمیٹی کی چیئرپرسن ہیں۔

ایس پی اے نے بتایا ہے کہ کمیٹی کا اجلاس 10 سے 25 ستمبرتک ہوگا۔یونیسکو میں سعودی عرب کے مستقل مشن نے ایک ٹویٹ میں کہا کہ’’وہ شروع سے ہی یونیسکو کا ایک وقف رکن ملک ہے، یہ فیصلہ کن اقدام مملکت کے لیے ثقافتی ورثے کے تحفظ، فروغ اور تحفظ کو مزید فروغ دینے کا ایک موقع ہے‘‘۔

شہزادی حیفا نے کہا کہ ’’یہ فیصلہ عالمی ثقافتی ورثے کی حمایت میں سعودی عرب کے اہم کردار، مشترکہ انسانی ورثے کو فروغ دینے کی جاری کوششوں اور عالمی ثقافتی ورثہ کمیٹی کے اہداف کی تکمیل کے لیے کیے جانے والے کام کا نتیجہ ہے‘‘۔

اس کے علاوہ یہ فیصلہ یونیسکو میں سعودی عرب کی کوششوں، شاہ سلمان بن عبدالعزیزاور ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کی جانب سے ثقافتی شعبے کی سرپرستی ، معاونت اور وزیر ثقافت شہزادہ بدربن عبداللہ بن فرحان کی جانب سے جاری حمایت کا بھی مظہرہے۔

واضح رہے کہ یونیسکو کی عالمی ثقافتی ورثہ کمیٹی جنرل اسمبلی کے ذریعے منتخب کردہ 21 ریاستوں کے نمائندوں پر مشتمل ہے۔ یہ کمیٹی عالمی ثقافتی ورثے کی فہرست میں اپنے مقامات کی شمولیت کے خواہاں ممالک کی تجاویز کا جائزہ لیتی ہے،ماہرین کو ان مقامات پر رپورٹ کرنے میں مدد فراہم کرتی ہے اورعالمی ثقافتی ورثے کی فہرست میں مجوزہ مقامات کے فیصلے کا حتمی جائزہ فراہم کرتی ہے۔

سعودی عرب یونیسکو کی دواورمرکزی کمیٹیوں کا بھی رکن ہے۔اس کے پاس اس کی ایگزیکٹوکونسل کی رکنیت ہے اور وہ بین الحکومتی کمیٹی برائے تحفظ غیر منقولہ ثقافتی ورثہ کا بھی رکن ہے۔ یہ تنظیم کی فیصلہ سازی میں ایک اہم اور بین الاقوامی مرکز کے طورپر مملکت کے کردار کواجاگر کرتی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں