ترکی کی وزارتِ خارجہ نے ناروے کےحکام کی جانب سے جمعہ کوملک میں احتجاج اوراس کے دوران میں قرآن مجید پرحملےکی اجازت دینے پرانقرہ میں متعیّن نارویجئن سفیر کو طلب کیا ہے۔
وزارت کے ذرائع نے بتایاکہ انقرہ نے ناروے حکام کی جانب سےاجازت کی شدید مذمت کی ہے جس کے بارے میں اس کاکہنا ہے کہ یہ ایک ’’اشتعال انگیزعمل‘‘ہے اوریہ قرآن پر حملے کے مترادف ہے۔
ترک وزارتِ خارجہ نے ناروے کے حکام سے اس مظاہرے کی اجازت کو واپس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔
گذشتہ ماہ اسٹاک ہوم میں ترکی کے سفارت خانہ کے قریب انتہائی دائیں بازوسے تعلق رکھنے والے تارکین وطن مخالف ڈنمارک/ سویڈش سیاست دان نے قرآن مجید کا ایک نسخہ نذرآتش کیاتھااوراحتجاج کیا تھا۔انقرہ نے اس اشتعال انگیز حرکت کی شدید مذمت کی تھی۔