یواے ای،بھارت،فرانس موسمیاتی تبدیلی،حیاتیاتی تنوع اورجوہری توانائی میں تعاون پرمتفق
متحدہ عرب امارات، بھارت اور فرانس نے شمسی اور جوہری ذرائع سے توانائی کے منصوبوں پرتوجہ مرکوز کرنے،موسمیاتی تبدیلی سے لڑنے اور بالخصوص بحرہند کے خطے میں حیاتیاتی تنوع کے تحفظ کے لیے ایک سہ فریقی اقدام پر اتفاق کیا ہے۔
بھارت کی وزارت خارجہ کی جانب سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ ممالک جی 20 امیر اور ترقی پذیرممالک کے گروپ کی بھارتی صدارت اور متحدہ عرب امارات کی جانب سے اس سال کوپ 28 ماحولیاتی مذاکرات کی میزبانی کے فریم ورک میں سہ فریقی تقریبات کا انعقاد کریں گے۔
تینوں ممالک کے وزرائے خارجہ نے ایک فون کال کے ذریعے اس اقدام پر عمل درآمد کے لیے روڈمیپ اپنانے کا فیصلہ کیا ہے۔یہ فون کال ان کی ستمبرمیں نیویارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے موقع پرہونے والی ملاقات کا تسلسل تھی۔
تینوں ممالک متحدہ عرب امارات کی سربراہی میں مینگروواتحاد برائے موسمیات اور بھارت اور فرانس کی قیادت میں ہند،بحرالکاہل پارکس پارٹنرشپ جیسے اقدامات کے ذریعے اپنے تعاون کو وسعت دیں گے۔
بیان میں کہاگیا ہے کہ اس بات پراتفاق کیا گیا کہ تینوں ممالک کو باجرے کے بین الاقوامی سال کے تناظرمیں سنگل یوز پلاسٹک آلودگی، ریگستان اور فوڈ سکیورٹی جیسے اہم امور پر توجہ مرکوز کرنی چاہیے۔
انھوں نے صاف توانائی،ماحولیات اورحیاتیاتی تنوع کے منصوبوں کو آگے بڑھانے کے لیے بحرہند ریم ایسوسی ایشن کے ساتھ کام کرنے کے امکانات تلاش کرنے پر اتفاق کیا۔
یہ ایسوسی ایشن ایک علاقائی فورم ہے۔اس میں جنوبی افریقا، بھارت، ماریشس، آسٹریلیا، انڈونیشیا، سری لنکا، ملائیشیا، تنزانیہ اوربعض دیگر ممالک کی حکومتیں، کاروبار اور تعلیمی اداروں کے نمائندے شامل ہیں۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ وہ موسمیاتی تبدیلیوں کا مقابلہ کرنے اور پائیدار مگرکم کاربن مستقبل کے لیے ضروری اقدامات اور سرمایہ کاری کا عمل تیز کریں گے۔اس مقصد کے لیے وہ 2015 کے پیرس معاہدے کے اہداف کے ساتھ اپنی متعلقہ اقتصادی،تکنیکی اور سماجی پالیسیوں کی زیادہ سے زیادہ صف بندی کو یقینی بنانے کی کوشش کریں گے۔