زلزلہ کی اس تباہی میں ہر ایک کو مناسب رد عمل کا مظاہرہ کرنا چا ہیے: فیصل بن فرحان
تمام فریق شام کے تمام علاقوں میں امداد کی آمد محفوظ بنانے میں کردار ادا کریں: سعودی وزیر خارجہ
سعودی وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان نے پیر کے روز کہا کہ شام اور ترکیہ میں زلزلے کی تباہی کے بعد ہر ایک کی طرف سے مناسب ردعمل کی ضرورت ہے۔
انھوں نے برسلز میں ’’العربیہ/الحادث‘‘ کے نمائندے کو بیان دیتے ہوئے کہا ہے کہ ہم تمام فریقوں سے شام کے تمام علاقوں میں امداد کی آمد کو محفوظ بنانے کی اپیل کرتے ہیں۔ ہم شام کے اندر تمام علاقوں تک امداد پہنچانے کے لیے ہر ممکن کوشش کر رہے ہیں۔ یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کے سربراہ جوزپ بوریل کے ساتھ دو طرفہ ملاقات میں جو بات چیت ہوئی اس کے مطابق ہم ہر ایک کو امداد فراہم کرنے کی ترغیب دیتے ہیں۔
پابندیوں میں انسانی امداد شامل نہیں: بوریل
یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کے سربراہ بوریل نے کہا کہ شامی حکومت کے خلاف یورپی پابندیاں انسانی امداد، خوراک کی امداد اور طبی آلات کو متاثر نہیں کرتی ہیں۔ پابندیاں شامی حکومت اور اس کے حامیوں کو نشانہ بناتی ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ یورپی یونین طویل عرصے سے شامی عوام کے ساتھ کھڑی ہے اور یونین شام کی پہلی ڈونر ہے۔
ہم شام میں متاثرہ علاقوں کی مدد کے لیے اپنی طاقت کے مطابق ہر ممکن کوشش کریں گے ۔ ہم وہاں مزید مدد فراہم کریں گے۔
سعودی امدادی ٹرک
دریں اثنا سعودی امدادی ٹرک شام اور ترکیہ میں تباہ کن زلزلہ کے نتیجے میں شام کے علاقے جیندریس میں مصیبت زدہ لوگوں کی مدد کے لیے پہنچ گئے ہیں۔ سعودی امدادی کیمپ کے ایک اہلکار نے بتایا کہ اس کیمپ میں شمالی شام میں مصیبت زدہ لوگوں کو ٹھہرانے کے لیے 2000 خیمے شامل ہیں۔ یہ اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ شامی جیندریس کے لیے جلد ہی مزید امدادی قافلے پہنچیں گے۔
سعودی عرب کی یہ کوششیں ریلیف ایئر برج کی توسیع کے طور پر سامنے آئی ہیں۔ یہ فضائی پل شاہ سلمان ریلیف سنٹر کے زیر انتظام چلایا جا رہا ہے۔
سعودی فضائی پل کے حصے کے طور پر گزشتہ دنوں 6 سعودی امدادی طیارے یکے بعد دیگرے ترکیہ کے متاثرہ علاقوں میں پہنچے تھے۔ ان طیاروں جن میں خوراک، خیمے، کمبل، قالین اور شیلٹر بیگز کے علاوہ طبی سامان بھی شامل تھا۔