’’صدارت عامہ برائے امور دو مقدس ترین مساجد‘‘ کے صدر شیخ ڈاکٹر عبدالرحمٰن السدیس نے المسجد الحرام میں حرم مکی انسٹی ٹیوٹ میں غیر عربوں کو عربی زبان سکھانے کے لیے پہلی کمپیوٹر لیب کا افتتاح کردیا۔
مکہ مکرمہ میں حرم مکی انسٹی ٹیوٹ کی انتظامیہ کی جانب سے یہ اقدام سعودی عرب کے ’’ویژن 2030‘‘ کے تحت ڈیجیٹل تبدیلی ، جدید تعلیمی نظام کی ترقی اور جدید تعلیمی ماحول کو تیار کرنے کی کوششوں کے ضمن میں آتا ہے۔
عزت مأب شیخ السدیس نے حرمی مکی انسٹی ٹیوٹ کے تعلیمی نظام میں کی جانے والی ان کوششوں کو سراہا جن کے نتیجے میں المسجد الحرام میں تعلیم کے میدان میں کمیپوٹر لیب کا افتتاح کردیا گیا۔
شیخ السدیس نے تعلیمی عمل کے فائدے کے لیے لیبارٹری کے کاموں سے متعلق انسٹی ٹیوٹ کے منصوبے کو سنا۔ انہوں نے اس لیبارٹری کے تحت آنے والے شعبوں کے متعلق بریفنگ لی۔ بریفنگ میں بتایا گیا کہ اس لیب کے تحت سب سے اہم تعلیمی کلاسیں ہیں جن میں قرآن کریم کی تلاوت اور بذریعہ تجوید تلاوت کی اصلاح کرنا شامل ہے۔ لسانی فیکلٹیز کو ترقی دی گئی ہے۔ انسٹی ٹیوٹ میں کمپیوٹر کورسز کو بہتر بنایا گیا ہے۔ المسجد الحرام میں غیر مقامی بولنے والوں کو عربی سکھانے کے منصوبے سے وابستہ مختلف پروگراموں کا نفاذ کیا گیا۔ انسٹی ٹیوٹ کے ملازمین ، طلبہ اور اساتذہ کرام کے لیے ٹیکنالوجی کے شعبہ میں تربیتی کورسز کو منظم کیا گیا ہے۔ انسٹی ٹیوٹ اور کالج میں ای لرننگ پروجیکٹ کو ترقی دی گئی ہے۔
شیخ السدیس نے کہا بیت اللہ شریف کی مقدس ترین مسجد میں یہ تعلیمی ترقیاتی اقدامات سعودی عرب کی داش مند قیادت کی فراخ دلی کا ثمر ہیں۔ یہ اقدام سعودی عرب کے ’’ ویژن 2030 ‘‘ کے اہداف کے حصول کی جانب ایک قدم ہے۔