ایران کے مختلف صوبوں میں ہفتے کے روز اسکول طالبات کو زہر دیا گیا ہے جس کے نتیجے میں دسیوں طالبات کو اسپتال میں داخل کیا گیا ہے۔طالبات کو زہرخورانی کے وقعات کے خلاف دارالحکومت تہران میں مظاہرے کیے جارہے ہیں۔شہریوں نے ممکنہ طور پر حکومت پر ان حملوں میں ملوث ہونے کا الزام عاید کیا ہے اور ان کی مذمت کی ہے۔
نومبر سے اب تک ایران بھرمیں لڑکیوں کے درجنوں اسکولوں میں زہریلے مواد سے حملے کیےگئے ہیں جس کی وجہ سے سیکڑوں لڑکیاں بیمار پڑگئی ہیں۔حکام نے ابتدائی طور پران واقعات کو مسترد کر دیا تھا لیکن حال ہی میں اس مسئلہ کی شدت کو تسلیم کیا ہے۔
طالبات کی طرف سے بیان کردہ علامات میں سردرد، دل کی دھڑکن میں تیزی، نقاہت، اور حرکت کرنے میں ناکامی شامل ہیں۔کچھ لوگوں نے غیر معمولی خوشبوؤں جیسے ٹینجرین، کلورین، یا صفائی کے لیے استعمال ہونے والے مواد کو سُونگھنے کے بارے میں بھی بتایا ہے۔
March 4, 2023.
— 1500tasvir_en (@1500tasvir_en) March 4, 2023
Poisoning of schoolchildren in Asadabadi girls’ school in Tehran.pic.twitter.com/OIhxwLZ73V
سرکاری خبررساں اداروں نے ہفتے کے روز فارس، حمدان، مغربی آذربائیجان اور البرز سمیت متعدد صوبوں میں زہرخورانی کے واقعات کی اطلاع دی ہے۔
نیم سرکاری خبر رساں ادارے تسنیم نے خبر دی ہے کہ صوبہ فارس کے شہر کاوارمیں لڑکیوں کے ایک اسکول کی 27 طالبات کو متلی، کمزوری اور چکر آنے کی علامات ظاہر ہونے پر اسپتال لے جایا گیا۔صوبہ مغربی آذربائیجان میں واقع اُورومیہ میں ایک اسکول کی مزید 30 طالبات کو زہر دینے کے بعد طبی مراکز لے جایا گیا ہے۔
سوشل میڈیاپرسرگرم تنظیم 1500تصویر نے ایران بھر میں لڑکیوں کے 40 سے زیادہ اسکولوں کی ایک فہرست جاری کی ہے۔یہ 20 سے زیادہ شہروں اور قصبوں میں واقع ہیں۔ ان تمام اسکولوں میں ہفتے کے روز طالبات کو مبینہ طور پر زہر دیا گیا تھا۔
“Our enemy is right here; they lie and say it’s the United States.”
— 1500tasvir_en (@1500tasvir_en) March 4, 2023
Gathering to protest the poisoning of school children, today, March 4, 2023, in Tehran.pic.twitter.com/9VU7gg7OtW
اس کی طرف سے ٹویٹرپرپوسٹ کی جانے والی ویڈیوز میں دیکھا جا سکتا ہے کہ مظاہرین تہران کے دو حصوں میں وزارت تعلیم سے وابستہ عمارتوں کے باہر جمع ہوکراحتجاج کررہے تھے۔ایک ویڈیومیں مظاہرین کو نعرے لگاتے ہوئے سنا جا سکتا ہے کہ ’’ہمارا دشمن یہیں موجود ہے۔وہ جھوٹ بولتے ہیں جب وہ کہتے ہیں کہ یہ امریکا ہے‘‘۔
یہ نعرہ حالیہ برسوں میں ایران میں ہونے والے مظاہروں میں بہت مقبول ہوا ہے، جس میں امریکاکے بجائے ایرانی حکومت کو ایرانی عوام کا حقیقی دشمن قراردیا گیا ہے۔
اس ویڈیو میں پولیس کی ایک گاڑی دیکھی جا سکتی ہے جبکہ تہران کی ایک اور ویڈیو میں سکیورٹی فورسز کے اہلکارایک شخص کو وین میں گھسیٹتے دکھائی دے رہے ہیں۔دارالحکومت میں درجنوں افراد کو گرفتار کرلیا گیا ہے۔
ایرانی صدرابراہیم رئیسی نے جمعہ کو ملک میں اسکول کی طالبات پرزہریلے حملوں کی جاری لہر کو’سازش‘ قرار دیتے ہوئے اس کا الزام تہران کے 'دشمنوں' پر عاید کیا تھا۔انھوں نے کسی مخصوص ملک کا نام نہیں لیا لیکن ایرانی حکام اکثر امریکا اوراسرائیل کے لیے 'دشمن' کی اصطلاح استعمال کرتے ہیں۔
March 4, 2023, Tehran.
— 1500tasvir_en (@1500tasvir_en) March 4, 2023
The brutal attack of the forces of the Islamic Republic forces on the families worried for their poisoned school children and the arresting of dozens of them.pic.twitter.com/XnJH3BmkPz
اقوام متحدہ کے علاوہ امریکااورجرمنی کی حکومتوں نے طالبات پر زہریلے حملوں کی اطلاعات پر تشویش کا اظہار کیا اور ایران سے ان واقعات کی تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔ایک ایرانی عہدہ دار کا کہنا تھا کہ زہر دینے کے واقعات ملک میں لڑکیوں کے اسکولوں کو بند کرنے پرمجبورکرنے کی کوشش ہو سکتی ہے۔
بعض ایرانیوں نےحکومت پر ان حملوں کا الزام عاید کیاہے۔ان کاکہنا ہے کہ مہسا امینی کی موت کے بعد ایران بھر میں ہونے والے مظاہروں کے پانچ ماہ سے زیادہ عرصے کے بعد زہر دیے جانے کے واقعات سوچی سمجھی سازش کا نتیجہ ہیں اور یہ احتجاج میں حصہ لینے پراسکولوں کی طالبات سے ’انتقام‘ کی ایک شکل ہے۔
مہسا امینی کو 16 ستمبر کو تہران میں اخلاقی پولیس نے خواتین کے لیے سخت ضابطۂ لباس کی مبینہ خلاف ورزی کے الزام میں گرفتار کیا گیا تھا اور وہ اس کے بعد پولیس کے زیرحراست ہی وفات پاگئی تھیں۔ان کی پُراسرار موت کے بعد کئی ماہ تک مظاہرے جاری رہے تھے اور یہ تیزی سے ایرانی حکومت کا تختہ الٹنے کے مطالبے میں تبدیل ہو گئے تھے۔
ایران بھر میں اسکول طالبات نے بھی اس احتجاجی تحریک میں حصہ لیا، سوشل میڈیا پر متعدد ویڈیوز میں انھیں حجاب اتارتے اور اسکولوں کے احاطے میں حکومت مخالف نعرے لگاتے ہوئے دیکھا جاسکتا ہے۔