دس برسوں میں پہلی بار دو روسی جنگی جہازوں کی سعودی عرب آمد

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

روس کے شمالی بحری بیڑے سے دو فوجی جنگی جہاز مغربی سعودی عرب کے جدہ کی بندرگاہ پر، تقریباً دس سالوں میں پہلی بار لنگر انداز ہوئے ہیں۔ روسی وزارت دفاع کے مطابق یہ پیش رفت دونوں ملکوں کے درمیان بڑھتے ہوئے میل جول کا اشارہ ہے۔

ریاض میں روسی سفارت خانے کے ایک اہلکار نے "اے ایف پی" کو بتایا کہ "دو جنگی جہاز جمعرات کو جدہ سے روانہ ہوئے"ان کا کہنا تھا کہ یہ دورہ "کچھ دیر پہلے طے کیا گیا تھا۔"

روسی وزارت دفاع نے بدھ کے روز اپنی ویب سائٹ پر بتایا کہ "فریگیٹ 'ایڈمرل گورشکوف' اور بحریہ کا ٹینکر 'کاما' بحیرہ احمر کے ساحل پر جدہ کی بندرگاہ میں موجود ہیں۔ انہوں نے وضاحت کی کہ اس کا مقصد "ایندھن، پانی اور سپلائی کرنا تھا، دو بارجز کے "عملے کے لیے ایک ثقافتی پروگرام تیار کیا گیا تھا"۔

روسی وزارت دفاع نے دونوں جنگی جہازوں کا ایک ویڈیو کلپ شائع کیا، جس میں سعودی ٹگ بوٹ روسی فریگیٹ کو سعودی سمندر میں لے جا رہی تھی۔

دونوں جنگی جہاز گذشتہ جنوری میں بحر ہند اور بحیرہ عرب کی سمندری حدود میں دو بین الاقوامی بحری مشقوں میں حصہ لینے کے لیے سیورو مورسک کی بندرگاہ سے روانہ ہوئے تھے۔

فروری میں روسی وزارت نے کہا کہ دونوں جنگی جہازوں نے بحر ہند میں چین اور جنوبی افریقہ کی بحریہ کے ساتھ سہ فریقی بحری مشق میں حصہ لیا۔

یہ دورہ سعودی روس کے فوجی اور اقتصادی تعلقات کو مضبوط بنانے کی کوششوں کا حصہ ہے جب کہ ریاض کے واشنگٹن کے ساتھ تعلقات بعض مسائل کے پس منظر میں سرد مہری کا شکار ہوئے تھے۔

اگست 2021 میں سعودی وزیر دفاع شہزادہ خالد بن سلمان (اس وقت کے نائب وزیر دفاع) نے ماسکو میں اپنے روسی ہم منصب سرگئی شوئیگو کے ساتھ ملاقات کے بعد کہا تھا کہ "ریاض اور ماسکو نے ایک معاہدے پر دستخط کیے جس کا مقصد دونوں ممالک کے درمیان مشترکہ فوجی تعاون کے شعبوں کو فروغ دینا ہے۔ "

سعودی عرب نے فروری 2022 میں شروع ہونے والے یوکرین پر روس کے حملے کی مذمت کرنے سے گریز کیا اور بحران کے سیاسی حل پر زور دیا، اس نے قیمتوں کو روکنے کے لیے تیل کی پیداوار بڑھانے کے لیے مہینوں تک مغربی دباؤ کی مزاحمت کی۔

سعودی عرب اور روس کی قیادت میں "اوپیک پلس" اتحاد نے تیل کی پیداوار میں 20 لاکھ بیرل یومیہ کمی کرنے کا فیصلہ کیا۔ اس اقدام سے واشنگٹن ناراض ہو گیا اور اسے"روس کے ساتھ صف بندی کرنے" قرار دیا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں