مستقبل کی فلسطینی ریاست کو خطرات، سابق صدر آئرلینڈ اور سابق وزیراعظم نیوزی لینڈ کا انتباہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 4 منٹ

دو سابق سربراہان حکومت نے خبردار کیا کہ مستقبل کی فلسطینی ریاست کے علاقوں کے غائب ہو جانے کا خطرہ ہے۔ یہ بات دونوں رہنما نیلسن منڈیلا کے قائم کردہ ایلڈرز گروپ سے متعلق ہیں۔ ان رہنماؤں نے کہا مستقبل کی فلسطینی ریاست کے لیے ان خطروں کی وجہ اسرائیل کو احتساب سے ماورا درجہ دینے کی بین الاقوامی حکمت عملی ہے۔

ان خیالات کا اظہار آئر لینڈ کی سابق صدر میری روبنسن اور نیوزی لینڈ کی سابق وزیر اعظم ہیلن کلارک نے اسرائیل اور لبنان کا دورہ کرنے کے بعد کیا ہے۔ دونوں نے مقبوضہ مغربی کنارے اور اردن کا بھی دورہ کیا۔

انہوں نے کہا اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو فلسطین کو صفحہ ہستی سے غائب کرنے کی کوشش کے ساتھ ساتھ معاشی، ثقافتی اور سیاسی اعتبار سے ختم کرنے میں لگے ہوئے ہیں۔

نیوزی لینڈ کی سابق وزیراعظم اور آئرلینڈ کی سابق صدر نے یہ گفتگو بیت المقدس میں صحافیوں کے ساتھ کی ہے۔ ان کا کہنا تھا لازمی ہے کہ بین الاقوامی برادری اسرائیل کو ناقابل احتساب تصور کیے رکھنے کی حکمت عملی سے نکلے اور اسرائیل کو اس کے اقدامات کی وجہ سے جواب دہ ٹھہرایا جائے۔

نیوزی لینڈ کی سابق وزیر اعظم ہیلن کلارک نے کہا اگر میں اپنی بات کو مختصر کروں تو بنیادی پیغام یہ ہے کہ ہم نے پوری سول سوسائٹی میں گھوم پھر کر دیکھا اور سنا ہے۔ اس سول سوسائٹی کا تعلق مغربی کنارے کے علاوہ مشرقی یروشلم سے بھی ہے۔ جن کا کہنا ہے کہ اسرائیل کو فلسطینیوں کے خلاف اقدامات پر جوابدہ بنانے کی ضرورت ہے۔

آئر لینڈ کی سابق صدر میری روبنسن نے کہا یورپی یونین کے لیے بھی یہ شرمناک ہے کہ ہم نے اس بارے میں ٹھوس مؤقف اختیار نہیں کیا۔ انہوں نے برسلز سے مطالبہ کیا کہ وہ اسرائیل کے ساتھ تجارت معطل کر دے۔ نیز اسرائیلی یہودی بستیوں سے آنے والی مصنوعات کی اپنی ہاں درآمد کو روکے۔

دونوں رہنماؤں نے کہا انہوں نے 2023 کے مقابلے میں اب کی بار مغربی کنارے کے دورے کے دوران صورتحال کو انتہائی بدتر دیکھا ہے۔ ان کا کہنا تھا ہم خبردار کرتے ہیں کہ اگر مغربی کنارے میں اسرائیل اسی طرح یہودی بستیاں آباد کرتا رہا تو فلسطینی ریاست ہماری آنکھوں کے سامنے وجود میں آنے سے پہلے ہی تحلیل ہو جائے گی۔

یاد رہے اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو نے اقتدار میں آنے سے لے کر اب تک 102 یہودی بستیاں قائم کرنے کی منظوری دی ہے۔ یہ بات انسانی حقوق کے گروپ 'پیس ناؤ' نے اپنی ایک رپورٹ میں بتائی ہے۔

2023 کے بعد سے مغربی کنارے میں اقوام متحدہ نے فلسطینیوں کے خلاف یہودی آبادکاروں کے پرتشدد واقعات میں تیزی دیکھی ہے۔ اسی دوران بعض ملکوں نے کچھ یہودی آبادکاروں پر پابدنیاں لگانے کا بھی اعلان کیا ہے، جسے اسرائیل نے تسلیم کرنے سے انکار کیا ہے۔ پابندنیاں لگانے والے ملکوں کے مطابق یہ یہودی آبادکار فلسطینیوں کے خلاف تشدد کے واقعات میں ملوث ہیں۔

مشرقی یروشلم کے علاوہ مغربی کنارے میں قائم کردہ یہودی بستیوں میں 5 لاکھ سے زائد یہودی آبادکاروں کو اسرائیل نے مختلف ملکوں سے لا کر بسایا ہے۔ مغربی کنارے کے اس علاقے میں اسرائیل نے 1967 سے قبضہ کر رکھا ہے۔

روبنسن نے کہا ہم نے اسرائیلی صدر اضحاک ہرزوگ کے ساتھ ملاقات کے دوران کئی نکات پر عدم اتفاق کیا اور صدر ہرزوگ نے غزہ میں اسرائیلی جنگ کے خلاف یکطرفہ تنقید کو دو ٹوک انداز میں مسترد کیا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں