سوڈان کے دارالحکومت میں فوج اور نیم فوجی ریپڈ سپورٹ فورسز کے درمیان خونریز جھڑپوں میں شدت کے دوران ، شہر میں اشیائے خورونوش کی قلت کے باوجود لوگ رمضان کی قدیم روایات پر کاربند ہیں۔
سوشل میڈیا پر پوسٹ ہونے والی ایک ویڈیو میں دیکھا جاسکتا ہے کہ خرطوم کے متعدد شہری غروب آفتاب سے عین قبل ایک سڑک کنارے زمین پر دسترخوان بچھائے بیٹھے ہیں اور ہر راہ گیر کو افطار کے لیے مدعو کر رہے ہیں۔
یہ ویڈیو جنگل کی آگ کی طرح پھیل گئی، سوشل میڈیا پر ملک اور شہریوں کو مشکل حالات سے گزرنے کے باوجود ایک قدیم انسانی روایت کی پاسداری کو بے حد سراہا گیا۔
لم يمنعهم دوي المدافع، وأزيز الطائرات، من تناول إفطار رمضان على قارعة الطريق؛هذا شعب عريق، كريم، معطاء، ولا يستحق هذا العناء.#السودان_الآن#السودان_اشتباك_مسلح#الخرطوم pic.twitter.com/0juFOiEUFA
— AbdElbdie Osman (عبدالبديع عثمان) (@AbdbdeaaOsman) April 19, 2023
سوڈان میں گذشتہ ہفتے کے روز سے، ملک کی دو بڑی فوجی قوتوں کے درمیان پرتشدد لڑائی کے واقعات میں 144 سے زائد شہری ہلاک ہوچکے ہیں، اور درجنوں زخمی علاج اور طبی خدمات سے محروم ہیں۔
کل شام جنگ بندی کے اعلان کے باوجود آج بدھ کو دونوں فریقوں کے درمیان پرتشدد جھڑپیں دوبارہ شروع ہو گئی ہیں۔
-
سوڈانی الہلال ٹیم کے کپتان کی گھر بیٹھی جواں سال بیٹی کے دل میں گولی پیوست، ماں زخمی
سوڈان میں جنگ بندی کے باوجود نہ تھمنے والی خونریز جھڑپوں کے جلو میں سوڈان کی ...
بين الاقوامى -
سوڈان میں سفارت کاروں پر حملوں کی عالمی سطح پر شدید مذمت
اقوام متحدہ سمیت عالمی سطح پر سوڈان میں جاری کشیدگی کے دوران سفارت کاروں پر حملوں ...
بين الاقوامى -
سوڈان کے ہسپتالوں میں زخمیوں کی زندگیاں بچانے کے لیے مدد کی اپیلیں
سوڈان میں جاری لڑائی کے نتیجے میں دارالحکومت خرطوم اور اطراف کے شہروں کے ہسپتال ...
بين الاقوامى