اخوان المسلمون کے بانی حسن البنا کے پوتے طارق رمضان کے خلاف پیر کو سوئٹزرلینڈ میں ریپ کیس میں ملوث ہونے اور زبردستی جنسی تعلقات کے الزام میں مقدمے کی سماعت شروع ہوئی۔
برطانوی اخبار دی’گارڈین‘ کے مطابق 60 سالہ طارق رمضان پر 2008 میں سوئس ہوٹل میں ایک خاتون کو جنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا الزام ہے۔
رمضان ایک ماہر تعلیم کے طور پر خود کو پیش کرتےہیں۔ 2017 میں ان کا ایک جنسی اسکینڈل سامنے آیا۔ اس وقت دو فرانسیسی خواتین نے ان پر پہلی بار ریپ کا الزام لگایا تو وہ منظر سے غائب ہو گئے تھے۔
اخوان کے بانی کے پوتے کے معاملے کو "می ٹو" مہم کے فریم ورک میں اٹھائے گئے سب سے نمایاں مسائل میں سے ایک کے طور پر دیکھا گیا، جس میں ہراساں کرنے والوں اور جنسی مجرموں کو بے نقاب کرنے کی کوشش کی گئی تھی۔
سوئس شکایت کنندہ خاتون جس نے اپنی جوانی میں اسلام قبول کیا تھا دعویٰ کیا ہے کہ طارق رمضان نے انہیں اس وقت ریپ کیا اس کی عمر چالیس سال تھی۔
-
فرانس: زیادتی کا الزام عائد کرنے والی خاتون کا نام ظاہر کرنے پر طارق رمضان پر جرمانہ
پیرس میں فرانس کی ایک عدالت نے الاخوان المسلمون تنظیم کے بانی کے نواسے طارق رمضان ...
بين الاقوامى -
فرانس: مصری نژاد پروفیسر طارق رمضان پر پانچویں خاتون سے زیادتی کا الزام
فرانس میں عدالت نے جمعرات کے روز مصری نژاد اسکالر طارق رمضان پر ایک اور خاتون کے ...
بين الاقوامى -
خواتین سے زیادتی کیسز، مذہبی اسکالر طارق رمضان دوبارہ کٹہرے میں!
یورپی ملکوں فرانس اور سوئٹرزلینڈ میں خواتین کے ساتھ مبینہ جنسی زیادتی کے کیسز میں ...
بين الاقوامى