ترکیہ:اپوزیشن کے شکست خوردہ امیدوار نےانتخابات کوغیرمنصفانہ قرار دیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

ترکیہ کے صدارتی امیدوار کلیچدار اوگلو نے اتوار کے روز اپنے حامیوں سے "جمہوریت کے لیے جدوجہد" جاری رکھنے کی اپیل کی۔ انہوں نے حالیہ صدارتی انتخابات کو ملک کی تاریخ کے غیرمنصفانہ قرار دیتےہوئے صدر رجب طیب ایردوآن کو تنقید کا نشانہ بنایا۔

خیال رہے کہ کل اتوار کو ہونے والے رن آف الیکشن میں رجب طیب ایردوآن دوبارہ ترکیہ کے صدر منتخب ہوئے ہیں۔

اپنے حامیوں سے اپنی تقریر میں اوگلو نے کہا کہ "انتخابات میں ایک آمرانہ حکومت کو تبدیل کرنےکے لیے عوام نے اپنی خوہشات کا اظہار کیا ہے‘‘۔ تاہم انہوں نے باضابطہ طور پراپنی شکست تسلیم نہیں کی۔

کلیچدار اوگلو کی تقریر سےکچھ دیر قبل ترک الیکشن کمیشن نے اتوار کو ایک پریس کانفرنس میں اعلان کیا کہ ایردوآن نے باضابطہ طور پر تیسری بار صدارتی انتخاب جیت لیا ہے۔

کلیچدار اوگلو نے "ترکیہ کو درپیش مشکلات پر" اپنے دکھ کا اظہار کیا۔

انہوں نے زور دے کر کہا کہ "حالیہ انتخابات کئی سال کے سب سے زیادہ غیر منصفانہ انتخابات تھے۔ دوسرے امیدوار نے ریاست کی تمام صلاحیتوں سے فائدہ اٹھایا۔"ان کا اشارہ موجودہ صدر رجب طیب ایردوآن کی جانب تھا۔ انہوں نے الزام عاید کیا کہ صدر رجب طیب ایردوآن نے اپنی کامیابی کے لیے ریاستی وسائل کا بے دریغ استعمال کیا۔

دوسری طرف صدر رجب طیب ایردوآن نے صدارتی انتخابات میں رن آف مرحلے میں کامیابی کے بعد کہا کہ "جو لوگ عوام کی خدمت کرتے ہیں وہ کبھی شکست نہیں کھاتے ہیں۔"

استنبول میں اپنی رہائش گاہ کے باہر اپنے حامیوں کے ہجوم سے خطاب کرتے ہوئے ایردوآن نے کہا کہ "میں ان لوگوں کا شکریہ ادا کرتا ہوں جنہوں نے ایک بار پھر ترکیہ پر حکمرانی کی ذمہ داری ہمیں منتقل کی‘۔

اناطولیہ نیوز ایجنسی نے اطلاع دی ہے کہ 98.6 فیصد سے زیادہ بیلٹ بکسوں کی گنتی کے بعد ایردوآن نے 52.09 فی صد ووٹ حاصل کیے، جبکہ ان کے حریف کمال کلیچدار اوگلو کو 47.91% ووٹ ملے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں