سوڈان کے دوسرے بڑے شہر پورٹ سوڈان میں رات کے کرفیو کا اعلان

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

سوڈان کے دوسرے بڑے شہر پورٹ سوڈان (بورسودان) میں منگل کو مقامی وقت کے مطابق رات 11 بجے سے صبح 5 بجے تک (2100 جی ایم ٹی سے 0300جی ایم ٹی تک) کرفیو نافذ کردیا گیا ہے۔

ریاست بحیرہ احمر کے گورنر نے ایک اعلامیے میں پورٹ سوڈان میں کرفیو کے نفاذ کا اعلان کیا ہے۔ قبل ازیں ریاست کی سلامتی کمیٹی نے کہا ہے کہ اس نے کئی ’باغی‘ سلیپر سیل پکڑے ہیں جن کے بارے میں اس کا کہنا ہے کہ وہ باہر سے ریاست میں داخل ہوئے تھے اور وہ تخریبی سرگرمیوں کی منصوبہ بندی کر رہے تھے۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ ’’ہم بحیرہ احمر کے شہریوں کا ان کے مکمل تعاون اور فوری طور پر ان باغی عناصر اور ان کے ایجنٹوں کی اپنے علاقوں میں موجودگی کی اطلاع دینے پر شکریہ ادا کرتے ہیں‘‘۔

بعد ازاں کمیٹی نے ہنگامی حالت میں توسیع کرتے ہوئے پورٹ سوڈان میں رات کے کرفیو کا اعلان کیا ہے لیکن اس نے ان باغی عناصر کی شناخت نہیں بتائی۔

سوڈانی فوج کے سربراہ جنرل عبدالفتاح البرہان آج ایک ویڈیو میں فوجیوں کو سلام کرتے ہوئے نظر آئے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ فوج نے جنگ بندی میں توسیع پر اتفاق کیا ہے تاکہ شہریوں کی خدمات تک رسائی کو آسان بنایا جاسکے۔

انھوں نے ایک بیان میں کہا:’’فوج نے اپنی پوری مہلک طاقت کا استعمال نہیں کیا ہے، لیکن اگر دشمن نے عقل کی آواز پرکان نہیں دھرے تو وہ ایسا کرنے پر مجبور ہو جائے گی‘‘۔

دریں اثناء اقوام متحدہ کے حقوقِ اطفال کے ادارے یونیسیف کا کہنا ہے کہ سوڈان میں ایک کروڑ 36 لاکھ سے زیادہ بچّوں کو زندگی بچانے والی انسانی امداد کی فوری ضرورت ہے۔

اقوام متحدہ کے ایک اور ادارے عالمی خوراک پروگرام کا کہنا ہے کہ سوڈان میں نیا تنازع شروع ہونے کے بعد سے 17،000 میٹرک ٹن خوراک لوٹی جا چکی ہے۔اس نے یہ خدشہ ظاہرکیا ہے کہ آیندہ مہینوں میں سوڈان میں 25 لاکھ افراد بھوک کا شکار ہو جائیں گے۔

اس نے سوموارکو اطلاع دی تھی کہ اس نے لڑائی شروع ہونے کے بعد پہلی بار دارالحکومت خرطوم کے کچھ حصوں میں خوراک کی تقسیم شروع کردی ہے۔

اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے سربراہ وولکر ترک نے خبردار کیا ہے کہ خرطوم میں متحارب فورسز میں لڑائی نسل پرستانہ جہت اختیار کر سکتی ہے اور یہ خوفناک مضمرات کا سبب ہوگی۔ متحارب فورسز کے درمیان لڑائی خرطوم سے جنگ زدہ ریاست دارفور تک پھیل چکی ہے اور وہاں اب قبائل ایک دوسرے کے خلاف محاذآراء ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں