ایران مظاہرے

ایران: مہسا امینی کی موت کی کوریج پر دوسری صحافیہ کے خلاف مقدمے کی سماعت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

ایران میں ایک انقلابی عدالت نے منگل کے روز دوسری صحافیہ کے خلاف بند دروازے کے پیچھے مقدمے کی کارروائی شروع کی ہے۔اس خاتون پر ایرانی کرد دوشیزہ مہسا امینی کی موت کے بعد کوریج سے متعلق الزامات ہیں۔

گذشتہ سال ستمبر میں تہران میں ضابطۂ لباس کی خلاف ورزی پر پولیس کے زیر حراست مہسا امینی کی موت نے ملک میں کئی ماہ تک بدامنی کو جنم دیا تھا اور ایران کے چھوٹے بڑے شہروں میں کئی ماہ تک بڑے پیمانے پر حکومت مخالف مظاہرے ہوئے تھے اور یہ گذشتہ کئی دہائیوں میں ملک کے مذہبی رہنماؤں کے لیے سب سے بڑا چیلنج تھا۔

صحافیہ نیلوفر حامدی نے سب سے پہلے مہساامینی کی ایک تصویر جاری کی تھی۔اس میں امینی کے والدین کو تہران کے ایک اسپتال میں ایک دوسرے کو گلے لگاتے ہوئے دکھایا گیا تھا جہاں ان کی بیٹی کومے میں تھیں۔یہ تصویر بیرونی دنیا کے لیے اس بات کی پہلی علامت تھی کہ 22 سالہ مہسا امینی کے ساتھ سب کچھ ٹھیک نہیں ہے۔

نیلوفر حامدی نے اصلاح پسند نواز اخبارشرق کے لیے یہ تصویرلی تھی۔ان کے شوہر محمد حسین عجورلو نے ٹویٹر پر کہا کہ ان کی اہلیہ کے خلاف منگل کو ہونے والی سماعت دو گھنٹے سے بھی کم وقت میں ختم ہو گئی جبکہ ان کے وکلاء کو ان کا دفاع کرنے کا موقع نہیں ملا اور اہل خانہ کو بھی عدالت میں پیش ہونے کی اجازت نہیں دی گئی۔

صحافیہ نے اپنے خلاف عاید کردہ تمام الزامات کی صحت سے انکار کیا اور اس بات پر زور دیا کہ انھوں نے قانون کے مطابق ایک صحافی کے طور پر اپنا فرض ادا کیا تھا۔

حامدی اور ایک اور صحافیہ الہہ محمدی کے خلاف کئی الزامات عاید کیے گئے ہیں۔ان میں امینی کی موت کی کوریج کے لیے’’دشمن طاقتوں کے ساتھ ساز باز‘‘بھی شامل ہے۔

ایران کی سراغرسانی کی وزارت نے اکتوبر میں الہہ محمدی اور حامدی پرامریکی سی آئی اے کی ایجنٹ ہونے کا الزام عاید کیا تھا۔یہ دونوں خواتین گذشتہ آٹھ ماہ سے پابندسلاسل ہیں اور اب ان کے خلاف مقدمے کی سماعت شروع کی گئی ہے۔ الہہ محمدی کو سوموار کے روز پہلی مرتبہ عدالت میں پیش کیا گیا تھا۔

ایران کے مذہبی حکمرانوں نے مہسا امینی کی پولیس کے زیرحراست موت کے ردعمل میں مظاہروں کا الزام امریکا سمیت کئی دشمنوں پر عاید کیا تھا اور ان کے بہ قول ان کا مقصد اسلامی جمہوریہ کو عدم استحکام سے دوچار کرنا تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں