افغان پولیس کے مطابق شمالی افغانستان کے ایک سکول میں 60 طالبات کو زہر دیے جانے کے سبب ہسپتال میں داخل کر لیا گیا۔
افغانستان کے شمالی صوبے سر ے پل میں طالبات کے ایک سکول کو نشانہ بنایا گیاجہاں پر ایک پولیس عہدیدار کے مطابق کچھ نامعلوم افراد سکول کی عمارت میں داخل ہوئے اور انہوں نے کلاس رومز میں زہریلا مواد پھیلا دیا۔ جب طالبات ان کمروں میں داخل ہوئیں تو ان کی طبیعت ناساز ہو گئی۔
پولیس عہدیدار کے مطابق تمام طالبات کو ہسپتال میں منتقل کر دیا گیا تھا اور ان تمام کی حالت بہتر ہے۔ ابھی تک اس واقعہ میں کسی فرد کی گرفتاری کی اطلاعات سامنے نہیں آئی۔
اس سے قبل ہمسایہ ملک ایران میں بھی طالبات کے تعلیمی اداروں میں زہریلا مواد دینے کے واقعات رونما ہوئے تھے جن سے تقریبا 13 ہزار طالبات متاثر ہوئی تھی۔
افغان کی گزشتہ حکومتوں کے ادوار میں بھی طالبات کے سکولوں پر زہریلے مواد سے حملوں کے واقعات منظر عام پر آتے رہے ہیں۔
افغانستان میں طالبان کی جانب سے اقتدار سنبھالنے کے بعد سے خواتین کی اعلیٰ تعلیم کا موضوع تنازع کا شکار ہے۔ افغان حکومت کی جانب سے طالبات کی اعلیٰ تعلیم پر پابندی کے سبب کابل حکومت کو بین الاقوامی اداروں اور حکومتوں کی جانب سے تنقید کا نشانہ بنایا گیا ہے۔
طالبان حکام نے 12 سال تک طالبات کو تعلیم دینے کی اجازت دے رکھی ہے۔
-
افغان خواتین پر طالبان کی پابندیاں انسانیت کے خلاف جرم ہیں: انسانی حقوق گروپ
حقوق کے دو سرکردہ گروپوں نے جمعہ کے روز افغانستان میں طالبان کی طرف سے خواتین اور ...
بين الاقوامى -
طالبان سپریم لیڈر نے مولوی عبدالکبیر کو افغانستان کا نیا وزیراعظم مقرر کر دیا
تحریک طالبان کے رہ نما ملا ہیبت اللہ آخوندزاده نے ایک باضابطہ فیصلہ جاری کرتے ہوئے ...
بين الاقوامى -
کابل میں افغان خواتین کا احتجاج،دوسرے ممالک سے طالبان حکومت کوتسلیم نہ کرنے کامطالبہ
افغان خواتین نے ہفتے کے روزدارالحکومت کابل میں طالبان حکومت کے اقدامات کے خلاف ...
بين الاقوامى