جاپان میں بدھ کے روز ایک فوجی اڈے پر اس وقت افراتفری پھیل گئی جب ایک فوجی نے اپنے ساتھیوں پر فائرنگ کر دی، جس سے دو فوجی ہلاک اور دیگر زخمی ہو گئے۔
مقامی میڈیا کے مطابق مشتبہ شخص سیلف ڈیفنس فورسز کا ایک رکن تھا جسے وسطی گیفو پریفیکچر میں ایک فوجی شوٹنگ رینج سے گرفتار کیا گیا ہے۔
یہ بھی پتہ چلا کہ وہ جوان ہے، اور اس کی عمر صرف 18 سال ہے۔
【速報中】陸上自衛隊 岐阜の射撃場で何者かが自動小銃発射 負傷者情報も
— NHKニュース (@nhk_news) June 14, 2023
NHKのヘリコプターが撮影した上空からの様子ですhttps://t.co/7GLF2Gci6s#nhk_video pic.twitter.com/BKmfbMhvxP
انوکھےحادثات
جاپان میں فائرنگ کے واقعات انتہائی کم ہیں جہاں بندوق کی ملکیت کو سختی سے کنٹرول کیا جاتا ہے۔ کسی کو بندوق کی ملکیت کے لیے سخت شرائط سے گذرنا پڑتا ہے۔
لیکن گذشتہ جولائی (2022) میں سابق وزیر اعظم شنزو آبے کے قتل سے ملک دنگ رہ گیا جب وہ مغربی نارا کے علاقے میں ایک انتخابی ریلی میں تقریر کر رہے تھے کہ ہجوم میں سے ایک بندوق بردار نے انہیں گولی مار دی۔
بعد میں، مجرم نے اعتراف کیا کہ اسے ایک مخصوص تنظیم کے خلاف رنجش تھی اور اس نے جرم اس لیے کیا کیونکہ اسے یقین تھا کہ آبے اس سے وابستہ تھے۔
اس جرم نے ملک میں سیاست دانوں کے تحفظ کے بارے میں بالعموم اور بالخصوص وزرائے اعظم اور وزراء کے بارے میں ایک بحث کا آغاز کر دیا۔