’یوکرین کے پاس مغرب کے طویل فاصلے تک مار کرنے والے ہتھیار اور ٹینک اہمیت نہیں رکھتے‘
روسی صدر ولادی میرپوتین نے کہا ہے کہ یوکرین کو مہیا کیے جانے والے مغرب کے طویل فاصلے تک مار کرنے والے ہتھیاروں کے نظام اور ٹینک نقصان تو پہنچاتے ہیں لیکن میدان جنگ میں ان کا کوئی ’اہم‘ اثر نہیں پڑتا ہے۔
روس کی سرکاری خبر رساں ایجنسی ریا نووستی نے ان کا یہ بیان نقل کیا ہے کہ ’’یوکرین نے مغربی ممالک سے ہتھیاروں کی آمد، خاص طور پر طویل فاصلے تک مار کرنے والے میزائلوں سے کتنی امیدیں وابستہ کر رکھی ہیں:جی ہاں، وہ نقصان پہنچاتے ہیں، لیکن میزائلوں کے استعمال سے جنگی علاقے میں کچھ بھی اہم نہیں ہوتا‘‘۔
انھوں نے مزید کہا:’’یہی بات غیر ملکی ساختہ ٹینکوں اور پیادہ فوج کی لڑاکا گاڑیوں کے بارے میں بھی سچ ہے‘‘۔انھوں نے دعویٰ کیا کہ ’’صرف 4 جون سے 12 جولائی تک 311 ٹینک تباہ ہو چکے ہیں‘‘- اس تاریخ کویوکرین نے روس کے زیرقبضہ علاقے کو واگذار کرانے کے لیے جوابی کارروائی کا آغاز کیا تھا۔
صدر پوتین کا کہنا تھا کہ ’’ان تباہ شدہ ٹینکوں میں سے کم سے کم ایک تہائی حصہ مغرب ساختہ ہے،ان میں جرمن کے مہیا کردہ لیپرڈ ٹینک بھی شامل ہیں۔ وہ سوویت ساختہ ٹی 72 ٹینکوں سے زیادہ جلے ہوئے ہیں‘‘۔
یوکرین کی جوابی کارروائی میں ٹینک بہت اہم سمجھے جارہے ہیں جبکہ روس نے مغرب کی مہیا کردہ بیسیوں بکتربند گاڑیوں کو نشانہ بنایا ہے۔ان میں حال ہی میں تباہ کیے گئے جرمن ساختہ لیپرڈزٹینک بھی شامل ہیں۔اگرچہ یوکرین سرکاری طور پر مغرب کے مہیا کردہ سازوسامان کے نقصان کا اعتراف نہیں کرتا ہے ، لیکن اس ماہ ، روس نے مغربی اتحادیوں کی طرف سے کیف کو مہیا کردہ درجنوں لیپرڈ ٹینکوں کو تباہ کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔
جون میں یوکرین نے روس کے خلاف جوابی کارروائی میں اپنی زمینی افواج کی مدد کے لیے جرمنی سے مزید لیپرڈ ٹینک مہیا کرنے کی درخواست کی تھی جبکہ ماسکو نے کہا تھا کہ روسی فوج نے کیف کے درجنوں ٹینکوں کو تباہ کر دیا ہے۔