مشرق وسطیٰ اور افریقی ممالک کے لیے روسی صدر کے خصوصی ایلچی اور نائب وزیر خارجہ میخائل بوگدانوف نے کہا ہے کہ ریاض اور ابوظبی کے ساتھ روس کے تعلقات آگے بڑھ رہے ہیں۔
بوگدانوف کا یہ بیان’العربیہ ڈاٹ نیٹ‘ کی جانب سے روس، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے درمیان تعلقات کی سطح کے بارے میں ان کےخیالات کے بارے میں پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں سامنے آیا۔
ترکیہ اور شام کے درمیان روسی ثالثی پر انہوں نے مزید کہا کہ ماسکو کو امید ہے کہ یہ دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کو معمول پر لانے کا باعث بنے گا۔
بوگدانوف نے ’العربیہ ڈاٹ نیٹ‘ کے ساتھ ایک خصوصی انٹرویو میں کہا کہ شام میں امریکی موجودگی غیر قانونی ہے۔ واشنگٹن دہشت گردی سے نمٹنے کا بہانہ استعمال کر کے فرات کے مشرق میں شام کے اہم اقتصادی علاقوں پر قبضہ جمائے ہوئے ہے۔جنوبی شام میں التنف کا علاقہ امریکا کے لیے اس لیے اہم ہے کیونکہ اس میں تیل اور اہم قدرتی وسائل موجود ہیں۔
بوگدانوف نے مزید کہا کہ امریکی افواج کرد دھڑوں کی حمایت کرتی ہیں جو کہ شامی عرب جمہوریہ کی علاقائی سالمیت کی خلاف ورزی ہے۔
پناہ گزینوں کے معاملے پر مشرق وسطیٰ کے لیے پوتین کے خصوصی ایلچی نے کہا کہ مہاجرین کا مسئلہ ایک پیچیدہ مسئلہ ہے جس کے لیے بین الاقوامی کوششوں میں ہم آہنگی کی ضرورت ہے۔ یہ مسئلہ معاشی صورتحال سے جڑا ہوا ہے۔شام میں تباہ شدہ گھروں کی تعمیر نو کے لیے بھی بین الاقوامی امداد کی ضرورت ہے۔
شام کی عرب لیگ میں واپسی پر بوگدادوف نے کہا عرب لیگ کے جدہ اجلاس میں شام کے صدر بشار الاسد کی شرکت اہم اور مثبت تھی۔
-
روس کا کریمیا میں 28 ڈرون طیارے مار گرانے کا دعویٰ
ماسکو کی وزارتِ دفاع اور ایک مقامی اہلکار نے بتایا ہے کہ روسی افواج نے کریمیا کے ...
بين الاقوامى -
متنازع خلیجی جزائر پر بیان سے متعلق روسی وضاحتیں ناکافی ہیں: ایران
ایران نے کہا ہے کہ روس اور خلیج تعاون کونسل کے حالیہ مشترکہ بیان کے متعلق ماسکو کی ...
بين الاقوامى -
روس کا اناج کے معاہدے سے دستبرداری کا فیصلہ 'غیر معقول' ہے: بلینکن
امریکی وزیر خارجہ انٹونی بلینکن نے کل پیر کے روز کہا ہے کہ روس کا بحیرہ اسود کے ...
بين الاقوامى