کل جمعہ کو اقوام متحدہ نے جنوبی یمن میں نامعلوم مسلح افراد کے ہاتھوں ورلڈ فوڈ پروگرام کے ایک ملازم کی ہلاکت پر اپنے "گہرے" دکھ کا اظہار کیا ہے۔
’ڈبلیو ایف پی‘ کے ایک ترجمان نے خبر رساں ادارے ’اے ایف پی‘ کو بتایا کہ "ورلڈ فوڈ پروگرام کو اس بات پر شدید دکھ ہوا ہے کہ یمن میں جمعہ کو نامعلوم مسلح افراد کے ہاتھوں اس کا رکن ہلاک ہو گیا ہے۔"
تنظیم اور یمنی وزیر صحت قاسم حیبح نے اعلان کیا کہ جنوب مغربی یمن میں تعز گورنری میں مرنے والا ملازم اردنی شہری تھا۔
یمنی وزیر صحت نے ایک ٹویٹ میں لکھا ہے کہ "ایک مجرمانہ حملے سے تعز کے شہر تربہ میں ڈبلیو ایف پی (ورلڈ فوڈ پروگرام) سے منسلک ایک اردنی شہری موئید حمیدی کو قتل کردیا گیا۔
انہوں نے متقول کے اہل خانہ سے تعزیت کی اور سیکورٹی حکام سے مطالبہ کیا کہ "مجرموں کو گرفتار کرکے انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے۔"
یمنی خبر رساں ایجنسی سبا نیٹ کے مطابق یمنی صدارتی کونسل کے سربراہ رشاد العلیمی نے "مسلح حملے میں ملوث مجرم عناصر کا تعاقب کرنے کی ہدایت کی ہے۔
العلیمی نے تعز گورنری کے گورنر نبیل شمسان کو فون کیا جنہوں نے انہیں اس واقعے کی ابتدائی معلومات سے آگاہ کیا۔
-
یمن: یوٹیوب نے حوثی ملیشیا کے 18 چینلز بند کر دیے
انٹرنیٹ پر حوثی ملیشیا سے وابستہ متعدد صفحات کو بند کرنے کے فیصلے کا خیرمقدم کرتے ...
بين الاقوامى -
بوسیدہ ٹینکر سے پر خطر تیل پمپنگ آپریشن کے لیے اقوام متحدہ کا جہاز یمن پہنچ گیا
اقوام متحدہ کا ایک بحری جہاز اتوار کو جنگ زدہ یمن میں ایک پرخطر آپریشن کے لیے ...
بين الاقوامى -
یمن:الحدیدہ اور تعز میں حوثیوں کے گولہ باری، بارودی سرنگوں سےگیارہ بچے جاں بحق و زخمی
یمنی سرکاری اور انسانی حقوق کے ذرائع کے مطابق ایران نواز حوثی ملیشیا کے حملوں اور ...
بين الاقوامى