اقوام متحدہ نے مغربی کنارے کے آباد کاروں کے فلسطینی عوام اور املاک پر حملوں میں ڈرامائی اضافے سے خبردار کیا ہے۔ اقوام متحدہ نے کہا کہ اس سال اب تک ایسے تقریباً 600 واقعات درج کیے گئے ہیں۔
اقوام متحدہ کے انسانی ہمدردی کے ادارے او سی ایچ اے نے کہا کہ اس نے 2023 کے پہلے چھ ماہ میں مقبوضہ علاقے میں آباد کاروں سے متعلق 591 واقعات ریکارڈ کیے ہیں۔ یہ وہ واقعات ہیں جن میں فلسطینیوں کی ہلاکتیں ہوئی ہیں یا املاک کو نقصان پہنچا ہے۔
ترجمان جینس لارکے نے جنیوا میں صحافیوں کو بتایا کہ ہر ماہ اوسطاً 99 واقعات سامنے آئے۔ پورے 2022 کی ماہانہ اوسط کے مقابلے میں 39 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ 2022 میں یہودی آباد کاروں نے ہر ماہ اوسط 71 حملے کئے تھے۔ انہوں نے کہا 2022 میں ایسے واقعات کی تعداد پہلے ہی سب سے زیادہ تھی جب سے ہم نے 2006 سے ایسے واقعات کو ریکارڈ کرنا شروع کیا تھا۔ اسرائیل نے مغربی کنارے پر 1967 کی چھ روزہ جنگ کے بعد سے قبضہ کر رکھا ہے۔
مشرقی القدس کو چھوڑ کر اس علاقے میں تقریباً 30 لاکھ فلسطینیوں اور 4 لاکھ 90 ہزار اسرائیلی آباد ہیں۔ یہ اسرائیلی بین الاقوامی قانون کے تحت غیر قانونی سمجھی جانے والی بستیوں میں رہتے ہیں۔