نائجیریا میں مسلح گروہوں کے حملے میں 36 فوجی ہلاک

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

نائجیریا کی شمال وسطی ریاست نیجر میں مسلح گروہوں کے خلاف کارروائیوں کے دوران میں دو حملوں میں 36 فوجی ہلاک ہو گئے ہیں۔

نائجیریا کے شمال مغربی علاقے میں گذشتہ دو برسوں کے دوران بھاری ہتھیاروں سے مسلح گروہوں نے شورش بپا کررکھی ہے۔انھوں نے ہزاروں افراد کو اغوا کیا ہے، سینکڑوں افراد کو ہلاک کیا ہے اور کچھ علاقوں میں سڑک کے ذریعے سفر کوغیر محفوظ بنا دیا ہے۔

دفاعی ترجمان میجر جنرل ایڈورڈ بوبا نے کہا کہ 14 اگست کو ریاست نیجر کے مقامی حکومت کے علاقے شیرورو میں واقع گاؤں قندو کے قریب فوج پرگھات لگا کر حملے کیے گئے ہیں۔ ان میں ہلاک ہونے والوں میں تین افسراور 22 فوجی شامل ہیں۔

ہلاک شدگان کی لاشوں اور زخمیوں کو نکالنے کے لیے روانہ کیا گیا فضائیہ کا ایم آئی 171 ہیلی کاپٹر شیرورو کے گاؤں شکوبا کے قریب گر کر تباہ ہو گیا جس کے نتیجے میں مزید افراد ہلاک ہوئے تھے۔ اگرچہ جنرل بوبا نے حادثے کی وجہ کی تصدیق نہیں کی لیکن دو فوجی ذرائع نے خبر رساں ادارے رائٹرز کو بتایا کہ ممکنہ طور پر ہیلی کاپٹر کو مسلح گینگ کے ارکان نے فائرنگ سے گرایا تھا۔

بوبا نے ایک بیان میں کہا کہ ہیلی کاپٹر گر کر تباہ ہوا۔اس میں پہلی کارروائی میں زخمی ہونے والے سات اہلکاروں کے علاوہ دو پائلٹ اور عملہ کے دو ارکان شامل تھے۔

مقامی طور پر ڈاکو کہلانے والے گروہوں کے حملوں نے نائجیریا کی سکیورٹی فورسز کو پریشان کررکھا ہے۔سکیورٹی فورسز ملک کے مشرق میں پرتشدد علاحدگی پسند گروپ، وسطی ریاستوں میں چرواہوں اور کسانوں کے مہلک بحران اور شمال میں شدت پسند گروہ بوکو حرام اور صوبہ مغربی افریقا میں داعش (آئی ایس ڈبلیو اے پی) کے خلاف نبردآزما ہیں۔ان گروہوں نے گذشتہ 13 سال سے شورش بپا کررکھی ہے۔

بوبا نے مزید بتایا کہ ریاست کدونا میں ایک علاحدہ فوجی کارروائی کی گئی ہے اور فوجیوں نے خفیہ اطلاع پر ریاست کی مقامی حکومت ایگابی کے ایک گاؤں میں قید 10 یرغمالیوں کو بازیاب کرا لیا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں