معاشی مشکلات کا شکار یمنی استاد نے کم سن بیٹی سے لاتعلقی اختیار کر لی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

یمن میں حوثی ملیشیا کے زیر کنٹرول علاقوں میں شہریوں کا معیارِ زندگی کس خوفناک حد تک پہنچ چکا ہے اس کا اندازہ ایک چونکا دینے والے واقعے سے لگایا جا سکتا ہے۔

تنخواہوں میں مسلسل رکاوٹ اور معاشی حالات کے زوال کے باعث، تعلیم کے شعبے سے وابستہ ایک یمنی باپ نے اپنی کم سن بیٹی سے لاتعلقی اختیار کر لی کیونکہ وہ اس کی دیکھ بھال اور ضروریات پوری کرنے سے قاصر تھا۔

وزارت انصاف کی طرف سے جاری کردہ ایک دستاویز ظاہر کرتی ہے کہ وسطی یمن سے تعلق رکھنے والے شہری غالب عبدو نے اپنی بیٹی ابتہاج (8 سال) کو طاہر احمد الغربانی نامی ایک اور شہری کے حوالے کر دیا۔

دستاویز کے مطابق، بچی کا والد اپنے تمام فرائض سے دستبردار ہوگیا جب کہ بچی کی دیکھ بھال، پرورش اور اس کی شادی تک کے اخراجات الغربانی کو سونپ دیئے۔

دستاویز
دستاویز

نوکرانی بنا کر استحصال

میڈیا ایکٹیوسٹ، ابراہیم عسقین نے ''ایکس" پلیٹ فارم پر ایک ٹویٹ میں کہا کہ، "دستاویز کا مطلب ہے کہ بچی کو اس کی ذاتی ضروریات کے بدلے فریق ثانی طاہر الغربانی اور ان کی اہلیہ کے لیے دس سال تک نوکرانی بنا کر استحصال کیا جائے گا۔ "

مالی مشکلات اور خاندانی تنازعات

انسانی حقوق کی تنظیموں کے مطابق، اپنی بیٹی سے لاتعلقی اختیار کرنے والا استاد 2016 میں ملیشیا کے زیر کنٹرول علاقوں میں ملازمین کے لیے تنخواہوں میں تعطل کے بعد بیمار ہو گیا تھا۔

مالی مشکلات کا شکار استاد اپنی بیوی ام ابتہاج سے بھی علاحدگی اختیار کر چکا ہے۔

اس واقعے پر سماجی حلقوں میں شدید غم و غصہ پایا جاتا ہے۔ بہت سے لوگوں نے آنے والے عرصے کے دوران سنگین اور خوفناک سانحات کی پیشین گوئی کرتے ہوئے بچی کی اس کے والد کے پاس واپسی، اساتذہ کو تنخواہوں کی ادائیگی کا مطالبہ کیا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں