سپین کی درجنوں خواتین قومی فٹ بال کھلاڑیوں نے کہا ہے کہ وہ وہ اس وقت تک ٹیم کے لیے نہیں کھیلیں گی جب تک کہ فیفا کے صدر روبیلز کو سپین کی ورلڈ کپ جیتنے کے بعد ینی ہرموسو کے منہ پر بوسہ لینے کے سکینڈل پر برطرف نہیں کردیا جاتا۔
روبیئلز نے جمعہ کے اوائل میں استعفیٰ دینے سے انکار کر دیا تھا جس سے کھلاڑیوں اور کابینہ کے وزرا شدید ناراض ہوگئے اور روبیئلز کے اقدامات کو بدسلوکی اور ناقابل قبول قرار دیا۔
ہرموسو اور ورلڈ کپ جیتنے والے سکواڈ کیی تمام 23 کھلاڑیوں سمیت کل 56 کھلاڑیوں نے سپین کی فیفا خواتین کی فٹ بال ایسوسی ایشن کے ذریعے بھیجے گئے ایک مشترکہ بیان پر دستخط کیے۔ اس بیان میں گورننگ باڈی کو برطرف کرنے کا مطالبہ کیا گیا۔
دوسری طرف روبیئلز نے اپنا دفاع میں کہا کہ قومی ٹیم کی تاریخ میں پہلی بار عالمی ٹائٹل جیتنے کے بعد کھلاڑی جینی ہرموسو کو منہ پر بوسہ دینا بے ساختہ تھا۔ یہ باہمی رضامندی اور اتفاق پر مبنی اقدام تھا۔ اس میں طاقت کا استعمال نہیں کیا گیا۔ یاد رہے فیفا نے روبیئلز کے خلاف تادیبی کارروائی شروع کی ہے۔ فیفا نے کہا ہے کہ یہ واقعہ فیفا ڈسپلنری کوڈ کے آرٹیکل 13، پیراگراف 1 اور 2 کی خلاف ورزی کا باعث بن سکتا ہے۔
ہسپانوی وزیر اعظم پیڈرو سانچیز نے روبیلز کے اقدامات کو ناقابل قبول قرار دیا۔ ہسپانوی خواتین کی لیگ لا لیگا ایف نے انہیں عہدے سے ہٹانے کا مطالبہ کیا ہے۔