تعلیمی سال کے آغاز سے چند دن پہلے فرانس میں ایک ایسے قانون کے نفاذ کی وجہ سے بڑے پیمانے پر تنازعہ دیکھنے میں آیا جس میں سکولوں میں عبایا یا لمبے، ڈھیلے کپڑے پہننے کے ساتھ ساتھ یہودی "ٹوپی" پہننے، گلےمیں صلیب کی علامت لٹکانے یا دیگر مذہبی علامات ظاہر کرنے پر پابندی لگا دی گئی ہے۔
دریں اثنا فرانسیسی صدر ایمانوئل میکروں نےزور دے کر کہا کہ فرانسیسی طلباء اگر لمبے کپڑوں میں اسکول آتے ہیں تو انہیں داخل نہیں ہونے دیا جائے گا۔ حکام اگلے پیر کو کلاسز دوبارہ شروع ہونے پرسختی سے قانون کا نفاذ کریں گے۔
میکروں نے گذشتہ روز جنوبی فرانس میں ووکلوز کے علاقے میں ایک پیشہ ورانہ اسکول کے دورے کے بعد پہلی بار عوامی طور پر لباس کے ضابطے کے بارے میں بات کرتے ہوئے کہا کہ "ہم جانتے ہیں کہ طلباء کی طرف سے جمہوریہ کے نظام کو چیلنج کرنے کی کوشش کی جائے گی۔"
انہوں نے کہا کہ ملک میں اسکول مفت، لازمی، اور "سیکولر" ہیں۔ ہم اپنے قوانین پر سختی سے عمل کرائیں گے۔
تاہم صدر کے الفاظ کے ساتھ ہی "چیلنج" کا آغاز کیا گیا۔ ملک میں سوشل میڈیا سائٹس پر اپیلیں شروع ہو گئیں اور طلبا پر ایسے قوانین کو نہ ماننے پر زور دیا گیا۔
سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ایک ویڈیو میں ایک لڑکی نمودار ہوئی، جس میں ہر طالب علم سے خواہ وہ مسلمان ہو، عیسائی ہو، یہودی ہو یا کوئی اورلمبا لباس پہننے کا مطالبہ کیا گیا، اور اسےخواتین کی یکجہتی برابری کا مسئلہ قرار دیا۔
Interdiction de l'abaya à l'école: "Dans les lycées et les collèges les plus sensibles, des personnels spécifiques seront détachés aux côtés des enseignants pour les soutenir" annonce Emmanuel Macron pic.twitter.com/JfdeBF4J6e
— BFMTV (@BFMTV) September 1, 2023
ملبوسات کا سمندر
طالبات نے طنزکرتے ہوئے حکام سے استفسار کیا کہ وہ "عبایا یا لمبے لباس" میں فرق کیسے کریں گے؟
ویڈیو میں دکھنے والی طالبہ نے مزید کہا کہ "میں یہ دیکھنے کی منتظر ہوں کہ وہ لمبے لباس کے اس سمندر کے درمیان کیسا برتاؤ کریں گے۔"
کیا وہ اس کا رنگ، اس کا قد، یا لڑکی کا سر چھپا رہے ہیں/یا کیا؟ اس نے نتیجہ اخذ کیا کہ یہ قانون مضحکہ خیز ہے اور اس کا مقابلہ کرنے کے لیے بھی مضحکہ خیز اقدامات کرنے کی ضرورت ہے!
La "contre offensive islamique" se prépare pour la rentrée des classes avec des appels en masse sur les réseaux sociaux a porter des robes longues pensant qu'il est impossible de différencier l'abaya d'une robe et que la différenciation se fera en fonction de ses origines pic.twitter.com/n2NBBridWC
— Réalité Actuelle (@ReaActuelle) September 1, 2023
سنہ2004ء میں جاری ہونے والے اس قانون کےخلاف چند روز قبل ملک میں طوفان برپا ہوا تھا، تاہم وزیر تعلیم جبریل اٹل نے گذشتہ جمعرات کو تعلیمی اداروں کے سربراہان کو ایک میمورنڈم بھیج کر اسے بحال کر دیا۔ انہوں نے کہا کہ عبایا پہننا یا لمبی قمیض اسکول کے ماحول میں مذہبی وابستگی کا اظہار کرتی ہے اور اسے برداشت نہیں کیا جا سکتا۔"
سیکولرازم کی خلاف ورزی
وزیر تعلیم نے مڈل اور ہائی اسکولوں میں لمبے لباس پہننے والی لڑکیوں اور لڑکوں کو "سیکولرازم کی خلاف ورزی" کے مرتکب قرار دیا۔انہوں نے کچھ طلباء پر الزام لگایا کہ وہ اسکولوں کو غیر مستحکم کرنے کی کوشش میں روایتی لباس استعمال کر رہے ہیں۔
سنہ 1905ء کے قانون کے بعد سے جس نے کیتھولک چرچ اور ریاست کی علیحدگی قائم کی سیکولرازم کے فرانسیسی تصور نے مذہب کو نجی دائرے تک محدود کر دیا ہے۔
برسوں کے دوران یہ تصور فرانسیسی معاشرے میں مضبوطی سے قائم ہو چکا ہے۔
15 مارچ 2004 کو ایک قانون منظور کیا گیا جس کے تحت سرکاری اسکولوں، کالجوں اور ہائی اسکولوں میں طلباء کو ان کی مذہبی وابستگی ظاہر کرنے والے نشانات یا لباس پہننے سے منع کیا گیا تھا۔
-
کیا فرانس میں اسکولوں میں کم عمرلڑکیوں کا اسلامی عبایا پہننا ایک ’سیاسی حملہ‘ ہے؟
فرانسیسی حکومت کے ترجمان نے ملک کے اسکولوں میں بعض مسلم خواتین کے عبایا پہننے کو ...
ایڈیٹر کی پسند -
فرانس میں اسکولوں میں اسلامی عبایا پہننے پر پابندی عاید کرنے کا فیصلہ
فرانسیسی وزیرِتعلیم نے اسکولوں میں مسلمان طالبات کےعبایا پہننے پر پابندی عاید کرنے ...
بين الاقوامى -
فرانس:پرتشدد احتجاج کےدوران صدر میکروں کی موسیقی کنسرٹ میں رقص کی ویڈیو وائرل
متنازع ویڈیو پر عوامی حلقوں کی طرف سے شدید غم وغصہ
بين الاقوامى