سعودی عرب خام تیل کی اپنی یومیہ پیداوار میں جاری رضاکارانہ کٹوتی میں مزید تین ماہ کے لیے دسمبر 2023 کے آخر تک توسیع کرے گا۔
سعودی عرب کے وزارتِ توانائی کے ایک سرکاری ذریعے نے منگل کے روز بتایا ہے کہ اکتوبر، نومبر اور دسمبر کے مہینوں میں مملکت کی خام تیل کی پیداوار قریباً 90 لاکھ بیرل یومیہ ہوگی۔
ان کا کہنا ہے کہ پیداوارمیں کٹوتی کا ماہانہ جائزہ لیا جائے گا تاکہ کٹوتی کو گہرا کرنے یا پیداوار بڑھانے پر غور کیا جا سکے۔
سرکاری ذریعے نے واضح کیا کہ پیداوار میں یہ کٹوتی مملکت کی جانب سے اپریل میں اعلان کردہ رضاکارانہ کمی کے علاوہ ہے جو دسمبر 2024 کے آخر تک جاری رہے گی۔
انھوں نےاس بات کا بھی اعادہ کیا کہ اس اضافی رضاکارانہ کٹوتی کا مقصد تیل کی منڈیوں میں استحکام اور توازن کی حمایت میں مدد کے لیے اوپیک پلس کے اختیارکردہ احتیاطی کوششوں کومضبوط بنانا ہے۔
برطانوی خبررساں ادارے رائٹرز کے مطابق اوپیک پلس دنیا میں قریباً 40 فی صد خام تیل کو پمپ کرتا ہے۔یہ تیل برآمد کرنے والے ممالک کی تنظیم (اوپیک) اور روس کی سربراہی میں اتحادی ممالک پر مشتمل ہے۔