چار امریکی عہدیداروں نے انکشاف کیا ہے کہ صدر جو بائیڈن کی انتظامیہ یوکرین کو کلسٹر بموں سے لیس طویل فاصلے تک مار کرنے والے میزائلوں کی کھیپ فراہم کرنے پر رضامندی کے قریب ہے، جس سے کئیف کو روس کے زیر کنٹرول علاقے میں گہرا نقصان پہنچانے کے قابل بنایا جا سکتا ہے۔
خبر رساں ادارے ’رائیٹرز‘ کے مطابق تین عہدیداروں نے بتایا کہ گذشتہ چند مہینوں میں 155 ملی میٹر دھانے کے توپخانے کے گولوں میں کلسٹر گولہ بارود کی کامیابی کے بعد امریکا یوکرین کو یا تو ’اٹاکمز‘ ملٹری ٹیکٹیکل میزائل سسٹم فراہم کرنے پر غور کر رہا ہے، جو 306 کلومیٹر تک پرواز کر سکتا ہے، یا پھر کلسٹر بموں سے لیس گائیڈڈ میزائل سسٹم فراہم کرے گا جس کی رینج تقریباً 70 کلومیٹر ہے۔ یہ دونوں سسٹم بھی دیے جا سکتے ہیں۔
اگر منظور ہو جاتا ہے تو اس اسلحے کی کئیف تک ایکسپریس شپنگ کے لیے کوئی بھی آپشن دستیاب ہوگا۔
حتمی نہیں
دو ذرائع نے یہ بھی کہا کہ روسی افواج کے خلاف یوکرینی مہم میں پیش رفت کے آثار ابھرنے کی صورت میں امریکی انتظامیہ ایک فیصلہ کن لمحے میں یوکرین کی فوجی مدد کرنے کی خواہشمند ہے۔
جبکہ چار ذرائع نے مزید کہا کہ اٹاکمز سسٹم یا ملٹی لانچ گائیڈڈ میزائل سسٹم یا دونوں بھیجنے کا فیصلہ حتمی نہیں ہے اور ہوسکتا ہے کہ یہ اسلحہ دینے کی ضرورت نہ پیش آئے۔
یوکرینی فوج کی مشکلات
قابل ذکر ہے کہ یوکرین اس وقت 155 ملی میٹر توپ خانے کے گولوں سے لیس ہے جس کی زیادہ سے زیادہ رینج تقریباً 29 کلومیٹر ہے اور یہ 48 چھوٹے بم لے سکتے ہیں۔
زیر غور اٹاکمز سسٹم تقریباً 300 یا اس سے زیادہ چھوٹے بم چھوڑ سکتا ہے۔ متعدد لانچ گائیڈڈ میزائل سسٹم، جس کی ایک نقل یوکرین کے پاس مہینوں سے اپنے ہتھیاروں میں موجود ہے، تقریباً 404 کلسٹر گولہ بارود کو منتشر کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
تاہم بائیڈن انتظامیہ کو کئی مہینوں سے اٹاکمز کے حوالے سے کوئی فیصلہ کرنا مشکل ہو رہا ہے۔ ڈر ہے کہ یہ سسٹم روس کے خلاف حد سے زیادہ جارحانہ قدم سمجھا جائے گا۔
-
واشنگٹن سوویت ٹینکوں کو یوکرین منتقل کرنے پر کام کر رہا ہے : امریکی ذمے دار
ایک امریکی ذمے دار نے انکشاف کیا ہے کہ امریکا اس وقت اپنے حلیفوں کے ساتھ مل کر ...
بين الاقوامى -
واشنگٹن کا فوجی طیاروں کی یوکرین منتقلی پر غور
امریکا کی طرف سے پولینڈ کے ساتھ بات چیت جاری ہے تا کہ وارسو کی جانب سے استعمال شدہ ...
بين الاقوامى