مشرقی بحیرہ روم میں امریکی فوج کی تعیناتی پر ترکیہ کو تحفظات ہیں: تجزیہ کار
امریکہ نے غزہ جنگ کو علاقائی لڑائی میں تبدیل کیا تو ترکیہ سب سے زیادہ متاثر ہوگا: آیڈن سیزر
فوربز کی مشہور ویب سائٹ پر شائع ہونے والی ایک امریکی رپورٹ میں غزہ کی پٹی پر اسرائیلی حملے کے امریکہ اور ترکیہ کے باہمی تعلقات پر پڑنے والے اثرات پر روشنی ڈالی گئی ہے۔ خاص طور پر جب سے انقرہ نے غزہ پر اسرائیلی حملے کے بعد واشنگٹن کی جانب سے طیارہ بردار جہازوں کی تعیناتی پر تنقید کی تھی۔
طویل امریکی رپورٹ کے مطابق امریکہ کو حماس اسرائیل جنگ شروع ہونے کے بعد مشرقی بحیرہ روم میں طیارہ بردار بحری جہازوں کی تعیناتی کے حوالے سے شمالی بحر اوقیانوس کے معاہدے کی تنظیم (نیٹو) کے رکن ملک ترکیہ کو وضاحت فراہم کرنے کی ضرورت ہے۔ طیارہ بردار بحری جہاز لانے کے اس اقدام سے واشنگٹن اور انقرہ کے درمیان مزید کشیدگی میں اضافہ ہونے کا امکان ہے۔
امریکی رپورٹ پر تبصرہ کرتے ہوئے ایک سابق ترک سفارت کار نے کہا کہ ترکیہ دراصل خطے میں امریکی تعیناتی کے مقصد پر سوال اٹھا رہا ہے۔ ترکیہ کے سفارت کار اور بین الاقوامی امور میں ماہر سیاسی تجزیہ کار آیڈن سیزر نے ’’العربیہ ڈاٹ نیٹ‘‘ سے گفتگو میں مزید کہا کہ انقرہ خطے میں امریکی تعیناتی کے اہداف پر سوال اٹھاتا ہے۔ خاص طور پر اگر ہم اس بات کو ذہن میں رکھیں کہ اسرائیل پہلے ہی غیر متناسب طاقت کا استعمال کر رہا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ اگر امریکہ اسرائیل اور غزہ کے درمیان موجودہ جنگ کو علاقائی جنگ میں تبدیل کرنے میں کردار ادا کرتا ہے، تو ترکیہ کسی بھی علاقائی جنگ سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے ملکوں میں سے ایک ہو گا۔
ترک امریکہ تعلقات پہلے ہی انتہائی ہنگامہ خیز دور سے گزر رہے ہیں۔ مشرقی بحیرہ روم میں امریکی دوبارہ تعیناتی پر ترکیہ کی تنقید کا مسئلہ دونوں فریقوں کے درمیان تعلقات میں رکاوٹ بننے والے متعدد مسائل میں سے ایک ہے۔
سیزر نے کہا ترکی اور امریکہ کے درمیان تعلقات میں "نئے دور" کا آغاز امریکی صدارتی انتخابات کے بعد شروع ہو گا۔ انہوں نے اس بات کو مسترد کردیا کہ دونوں فریقوں کے درمیان بقایا مسائل جلد حل ہو جائیں گے۔