نجی ذرائع نے العربیہ اور الحدث چینلز کو کل منگل کے روز بتایا کہ حماس نے بیروت میں صالح العاروری کے قتل کے بعد ثالث ممالک کو غزہ میں کسی بھی قسم کی جنگ بندی یا قیدیوں کے کسی بھی تبادلے کے معاہدے کو منجمد کرنے کے بارے میں مطلع کیا ہے۔
ہمارے ذرائع کے مطابق کسی بھی جنگ بندی اور قیدیوں کے تبادلے کے مذاکرات کو بھی "العاروری کے قتل کے بعد تا اطلاع ثانی " ملتوی کر دیا گیا ہے۔
ذرائع نے وضاحت کی کہ العاروری غزہ میں ایک بڑی جنگ بندی اور قیدیوں کے تبادلے کے معاہدے کے حوالے سے زیادہ مفاہمت تک پہنچنے کے لیے ثالثوں کے ساتھ گذشتہ چند دنوں سے بات چیت کر رہے تھے۔
ذرائع نے تصدیق کی کہ صالح العاروری اگلے ہفتے ثالثوں سے ملاقات کے لیے حماس کے جنگ بندی کے مطالبات پر مزید مشاورت کرنے جا رہے تھے۔
حماس نے اسرائیلی فریق کو مطلع کرنے کے لیے ثالث کے ذریعے کہا ہےکہ مستقبل میں ہونے والے کسی بھی مذاکرات سے پہلے اسرائیل ٹارگٹ کلنگ نہں کرے گا۔
ذرائع نے زور دیا کہ "حماس کے عہدیداروں نے العاروری کے قتل کی وجہ سے کسی بھی عارضی جنگ بندی کو منجمد کر دیا ہے"۔
ذرائع نے کہا کہ "ثالث فی الحال ممکنہ بڑی کشیدگی کو روکنے کے لیے کام کر رہے ہیں۔ انہوں نے تل ابیب سے رابطہ کیا ہے، جس نے انہیں بتایا کہ وہ مزید قاتلانہ کارروائیاں کرنا بند نہیں کرے گا۔ تل ابیب نے مزید کہا کہ وہ ان کارروائیوں کو روکنے کے بدلے میں جنگ بندی تک پہنچنے کوششوں کو مسترد کرتا ہے۔