مہلک فضائی حملے کے بعد چین کی ایران اور پاکستان سے ’تحمل کا مظاہرہ‘ کرنے کی اپیل

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

چین نے بدھ کے روز پاکستان اور ایران پر زور دیا کہ وہ "تحمل" کا مظاہرہ کریں جب اسلام آباد نے کہا کہ تہران نے پاکستان کی سرزمین پر ایک فضائی حملہ کیا جس میں دو بچے ہلاک ہوئے تھے۔

وزارتِ خارجہ کی ترجمان ماؤ ننگ نے ایک باقاعدہ بریفنگ میں کہا، "ہم فریقین سے تحمل کا مظاہرہ کرنے، کشیدگی میں اضافے کا باعث بننے والے اقدامات سے گریز اور امن و استحکام کو برقرار رکھنے کے لیے مل کر کام کرنے کا مطالبہ کرتے ہیں۔"

انہوں نے کہا، "ہم ایران اور پاکستان دونوں کو قریبی ہمسایہ اور بڑے اسلامی ممالک سمجھتے ہیں۔"

ایران اور پاکستان دونوں بیجنگ کے قریبی شراکت دار اور شنگھائی تعاون تنظیم کے رکن ہیں۔

پاکستان نے منگل کو تادیر دونوں ممالک کی مشترکہ سرحد کے قریب کیے گئے حملے کی مذمت کرتے ہوئے اسے "مکمل طور پر ناقابلِ قبول" قرار دیا اورکہا کہ یہ بلا اشتعال تھا۔

ایران نے فوری طور پر کوئی سرکاری تبصرہ پیش نہیں کیا لیکن اس کی سرکاری خبر رساں ایجنسی نور نے کہا کہ حملے میں سنی عسکریت پسند گروپ جیش العدل (آرمی آف جسٹس) کا پاکستان کا ہیڈ کوارٹر تباہ کر دیا گیا۔

2012 میں تشکیل پانے والی جیش العدل کو ایران نے ایک دہشت گرد گروپ کے طور پر بلیک لسٹ کیا ہے اور حالیہ برسوں میں اس نے ایرانی سرزمین پر کئی حملے کیے ہیں۔

یہ حملہ اس وقت کیا گیا جب ایران نے شام اور عراق کے خود مختار کردستان کے علاقے میں "جاسوسی کے ہیڈ کوارٹر" اور "دہشت گردوں" کے ٹھکانوں پر میزائل حملے کیے تھے۔

جبکہ اسرائیل نے غزہ میں حماس کے خلاف جنگ چھیڑ رکھی ہے اور یمن کی حوثی ملیشیا فلسطینیوں کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کے لیے بحیرۂ احمر میں تجارتی جہازوں پر حملہ کر رہی ہے تو ایرانی حملے پورے شرقِ اوسط میں متعدد بحرانوں میں اضافہ کرتے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں