سعودی عرب کے وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان نے زور دے کر کہا کہ مشرق وسطیٰ کا خطہ بدامنی کا شکار ہے اور ہمیں کشیدگی کو بڑھانے کی ضرورت نہیں ہے۔
"کشیدگی میں کمی ایک ترجیح ہے"
سعودی وزیر خارجہ نے بحیرہ احمر میں کشیدگی اور خطے میں عمومی طور پر سلامتی کے بارے میں مملکت کی تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ بحیرہ احمر میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کو کم کرنا اولین ترجیح ہے۔
منگل کو ڈیووس میں ورلڈ اکنامک فورم میں ایک ڈائیلاگ سیشن کے دوران سعودی وزیر خارجہ نے کہا کہ غزہ کی جنگ پورے خطے کو بڑے خطرات میں گھسیٹ رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ غزہ میں فوری جنگ بندی ہونی چاہیے۔
ان کا کہنا تھا کہ ’’بحیرہ احمر میں ہونے والے حملوں کا تعلق غزہ کی جنگ سے ہے‘‘۔
'جنگ روکنے کے کوئی آثار نہیں'
انہوں نے مزید کہا کہ "ہمیں اسرائیل کی طرف سے جنگ اور کشیدگی کو روکنے کے لیے کوئی نشان نظر نہیں آتے۔ ہماری ترجیح کشیدگی کو کم کرنے کے لیے راستہ تلاش کرنا ہے اور اس کا انحصار غزہ میں جنگ کو روکنے پر ہے"۔
سعودی وزیر خارجہ نے کہا کہ "غزہ میں جنگ کو روکنے کے لیے بین الاقوامی برادری کو مزید کچھ کرنا چاہیے۔ غزہ میں جنگ مسلسل مصائب بڑھنے کے واقعات کا باعث بنیں گی"۔
جب کہ انہوں نے مزید کہا کہ "اسرائیل کی سلامتی فلسطینیوں کی سلامتی کو ان کی ریاست کے قیام سے منسلک ہے"۔
-
اکتوبر سے حزب اللہ پر حملے لیے تیاراسرائیلی فوج کو کس نےروکا؟
لبنان اور اسرائیل کے درمیان سرحد پر تقریباً روزانہ تصادم کے باوجود حزب اللہ اور ...
مشرق وسطی -
جنگ کے بعد کے کسی بھی منظر نامے میں فلسطینی ریاست کی مخالفت کرتے ہیں: نتین یاہو
وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو نے جمعرات کے روز غزہ کی پٹی میں اسرائیلی فوجی کارروائی ...
مشرق وسطی -
پہلے غزہ میں جنگ بندی پھر اسرائیل سے تعلقات کی بات : سعودی سفیر ریما بنت بندر
سعودی عرب نے اسرائیل کے ساتھ کسی بھی نوعیت کے تعلقات کی راہ میں غزہ میں جاری ...
مشرق وسطی