سیارہ زحل کے چاند پر پانی کی دریافت کا دعویٰ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

ماہرینِ فلکیات نے دعویٰ کیا ہے کہ انہوں نے سیارے زحل کے چاند پر پانی دریافت کیا ہے۔

خبر رساں ادارے 'ایسوسی ایٹڈ پریس' کے مطابق فرانسیسی ماہرینِ فلکیات کی ایک ٹیم نے بدھ کو رپورٹ کیا کہ انہوں نے زحل کے چاند 'میماز' کے مدار میں تبدیلیاں نوٹ کیں ہیں اور ان کے تجزیے کے مطابق اس مردہ ستارے نما چاند کی منجمد سطح کے 20 سے 30 کلومیٹر نیچے ایک سمندر پایا جاتا ہے۔

سائنس دانوں نے یہ تجزیے 'ناسا' کے 'کیسینی اسپیس کرافٹ' کے مشاہدات کی بنیاد پر قائم کیے ہیں۔

'کیسینی اسپیس کرافٹ' نامی اس خلائی جہاز نے 2017 سے قبل ایک دہائی کے دوران زحل کے 140 سے زائد چاندوں کا مشاہدہ کیا اور پھر یہ جہاز زحل میں گر کر تباہ ہو گیا۔

زحل کے اس چاند کا قطر محض 400 کلومیٹر ہے اور اس کی سطح پر بڑے بڑے پتھروں کے گرنے کے نشانات موجود ہیں۔ اس چاند پر زحل کے دیگر چاندوں کی طرح پانی کی زیرِ سطح موجودگی کی وجہ سے گرم فوارے نظر نہیں آتے۔

پیرس آبزرویٹری کی جانب سے لکھی گئی رپورٹ کی شریک مصنف ویلیری لائینے نے 'اے پی' کو بذریعہ ای میل بتایا کہ انہیں اس چاند پر پانی کی بالکل امید نہیں تھی۔

ان کا خیال ہے کہ اس چاند پر زندگی پیدا ہو سکتی ہے لیکن اس کا اندازہ لگانا ممکن نہیں کہ ایسا کب تک ہو سکتا ہے۔

اس بات کا اندازہ لگایا گیا ہے کہ یہ سمندر 'میماز' کے کل حجم کا نصف ہے لیکن میماز چوں کہ بہت چھوٹا سا چاند ہے اس لیے یہ سمندر زمین میں موجود پانی کے حجم کے 1.4 فی صد ہی برابر ہو گا۔

ویلیری لائینے کے مطابق یہ چاند 50 لاکھ سے ڈیڑھ کروڑ برس پہلے وجود میں آیا تھا اور اس میں موجود پانی نقطہ انجماد سے کچھ ہی گرم ہو سکتا ہے۔ ان کا خیال ہے کہ اس سمندر کی تہہ میں موجود پانی اس سے کچھ ہی زیادہ گرم بھی ہو سکتا ہے۔

اس تحقیق کے دوسرے مصنف نک کوپر کا کہنا ہے کہ مایا پانی پر مشتمل یہ سمندر جسے وجود میں آئے بہت زیادہ وقت نہیں گزرا، زندگی کی ابتدا سے متعلق تحقیق کے لیے دلچسپ ہوسکتا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں