بھارتی کسان احتجاج کیوں کر رہے ہیں؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

بھارت میں اس وقت ہزاروں کسان احتجاج کر رہے ہیں۔ ان کا یہ احتجاج فصلوں کی قیمت سے متعلق ہے۔ سال 2021 میں متنازعہ زرعی اصلاحات کی منسوخی کی تحریک کی تجدید بھارتی کسان اس احتجاج کے ساتھ کر رہے ہیں۔

بھارت کے کسانوں نے اس ہفتہ نئی دہلی کی طرف مارچ شروع کیا۔ بھارتی حکام نے کسانوں پر آنسو گیس کے شیل پھینکے اور نئی دہلی میں کسانوں کو داخلے سے روکنے کے لیے کسانوں کو گرفتار بھی کیا گیا ہے۔ علاوہ ازیں بھارت کے دارالحکومت کے داخلی راستوں پر رکاوٹیں بھی کھڑی کر دی گئی ہیں۔

بھارتی کسانوں اور حکومتی وزراء کے درمیان ہونے والے مذاکرات فی الحال کسی بھی حتمی نتیجے پر پہنچنے میں ناکام رہے ہیں۔ کسانوں کی ٹریڈ یونین نےجمعہ کے روز ملک گیر دیہی ہڑتال کے لیے منصوبہ بندی بھی کر رکھی ہے۔

بھارتی حکام 2021 میں ہونے والے مظاہروں کی طرز پر رواں سال مظاہروں پر قابو پانے کے لیے پر عزم ہیں۔ خیال رہے 2021 میں بھارتی کسانوں نے 'کرونا' اور سردی کو برداشت کرتے ہوئے ایک سال بھارتی دارالحکومت نئی دہلی کے باہر احتجاج کیا تھا۔

بھارتی کسانوں کے مطالبات کیا ہیں؟

پنجاب اور ہریانہ سے تعلق رکھنے والے کسانوں کا کہنا ہے کہ ہمارے گزشتہ احتجاج میں موجود مطالبات کو حکومت نے پورا نہیں کیا ہے۔
وزیراعظم نریندر مودی نے کسانوں کے احتجاج پر 2021 میں زرعی اصلاحات کو منسوخ کر دیا تھا۔ کسانوں کا ان زرعی اصلاحات سے متعلق کہنا تھا کہ ان اصلاحات کی وجہ سے ہماری آمدنی کو نقصان پہنچے گا۔

کسان رہنماؤں کا کہنا ہے اس احتجاج میں کسانوں کے دیگر مطالبات کو تسلیم نہیں کیا گیا تھا۔ اسی لیے بھارتی کسان نئی دہلی میں احتجاج کر رہے ہیں۔ کسانوں کے مطالبات میں فصل کی یقینی قیمت کا تعین، کسانوں کی آمدنی کو دو گنا بڑھانا اور قرضوں کی معافی شامل ہیں۔

نئی دہلی کی طرف ہونے والے کسان مارچ کے رہنماؤں کا کہنا ہے کہ ہمارے اس احتجاج کا مرکزی نکتہ فصلوں کی قیمت کے تعین کی ضمانت دینے والی قانون سازی سے متعلق ہے۔

کسانوں کے رہنما سرون سنگھ پنڈھر نے بتایا کہ 'وزراء سے مسائل کے حل پر بات چیت کی گئی ہے۔ حتمی فیصلے کے لیے وزراء کو وقت درکار ہے۔'

خیال رہے جمعرات کو ہونے والے مذاکرات میں اتفاق رائے نہیں ہو سکا ہے۔ بھارتی وزراء نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا 'یہ ایک مثبت بحث تھی۔ ہم کسی پیشرفت کے خواہش مند ہیں۔' کسان رہنماؤں کا کہنا ہے کہ ہم مطالبات کے مانے جانے تک احتجاج جاری رکھیں گے۔ پر امن احتجاج کے ذریعے مطالبات کا حل چاہتے ہیں اور ہم حکومت کے ساتھ بات چیت کے لیے تیار ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں