عسکریت پسند گروپ داعش کی عماق نیوز ایجنسی نے ٹیلی گرام پر بتایا کہ داعش نے ہفتے کے روز ایک تصویر جاری کی جس کے بارے میں کہا گیا ہے کہ یہ وہ چار حملہ آور تھے جو جمعہ کو ماسکو کے قریب ایک کنسرٹ ہال میں فائرنگ کے ہنگامے کے پیچھے تھے جس میں کم از کم 143 افراد ہلاک ہو گئے تھے۔
عماق نے سکیورٹی ذرائع کا حوالہ دیتے ہوئے ایک بیان میں مزید کہا کہ یہ حملہ [داعش] اور اسلام سے لڑنے والے ممالک کے درمیان جاری جنگ کے تناظر میں ہوا ہے۔
داعش نے اس حملے کی ذمہ داری قبول کی لیکن ایسے اشارے ملے تھے کہ روس اس سانحے کے یوکرین سے تعلق کی تلاش میں تھا حالانکہ یوکرینی حکام نے اس بات کی سخت تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ کیف کا اس سے کوئی تعلق نہیں ہے۔
روسی حکام نے ہفتے کے روز کہا کہ انہوں نے حملے کے سلسلے میں چار مشتبہ مسلح افراد سمیت 11 کو گرفتار کیا ہے۔
-
کنسرٹ پر حملہ آور جب حراست میں لیے گئے تو وہ یوکرین فرار ہو رہے تھے: روسی صدر پوتین
روسی صدر ولادیمیر پوتین نے ہفتے کے روز کہا کہ ماسکو کے قریب ایک کنسرٹ پر حملہ کرنے ...
بين الاقوامى -
غزہ میں فوری فائر بندی کی امریکی قرارداد روس اور چین نے ویٹو کر دی
یو این میں روسی سفیر کے مطابق قرارداد ’انتہائی سیاسی‘ نوعیت ہے اور اس میں اسرائیل ...
بين الاقوامى -
وزیر اعظم پاکستان کی روسی دارالحکومت ماسکو میں دہشت گردانہ حملہ کی مذمت
پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف نے ماسکو میں گذشتہ رات ہونے والے حملے کی مذمت کی ...
پاكستان