فرانس کے دارالحکومت پیرس میں ایک مراکشی مسلمان خاتون کے ساتھ ایسے نفرت آمیز رویے کا مظاہرہ کیا گیا جس پر عوامی حلقوں اور سماجی کارکنوں کی طرف سے سخت غم وغصے کا اظہار کیا جا رہا ہے۔
’ڈیلی ٹیلی گراف‘ کے مطابق مراکش کی 22 سالہ انفلوئنسر فاطمہ سعیدی جو اسپانیہ میں مقیم ہے نے انگریزی میں پوسٹ کی گئی ایک ویڈیو میں انکشاف کیا ہے کہ "اسے پیرس کے پہلے دورے پر نفرت انگیز جرم کا نشانہ بنایا گیا۔ ایک بوڑھے سفید فام نے اس کے حجاب پر تھوک دیا‘‘۔
لڑکی کے ساتھ چھیڑ چھاڑ
اس نے وضاحت کی کہ جب وہ گذشتہ بدھ کو اپنی دوست کے ساتھ ایفل ٹاور کے قریب چہل قدمی کر رہی تھی تو ایک شخص جو جاگنگ کر رہا تھا اس کے قریب آیا اور اس پر حملہ کیا۔
اس نے کہا کہ اس آدمی نے "غلط لڑکی کے ساتھ چھیڑ چھاڑ"۔ کی۔ اس نے اس واقعے کو اپنے فون پر ریکارڈ کرلیا۔ وہ دوبارہ اس پر تھوک رہا تھا اور کچھ بڑ بڑا رہا تھا۔
اس نے عہد کیا کہ وہ اپنے حق سے دستبردار نہیں ہوں گی اورحملہ آور کے خلاف مقدمہ چلانے کی کوشش کرے گی۔
جب سے اسے جمعرات کو TikTok پر پوسٹ کیا گیا تھا اس ویڈیو کو تقریباً 5 ملین ویوز مل چکے ہیں۔
دریں اثنا پیرس کے ڈپٹی میئر عمانویل گریگوئیر نے اس واقعے کی فوری مذمت کرتے ہوئے اسے "خواتین اور اسلامی مذہب پر حملہ" قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ جو کچھ ہوا وہ رواداری اور اعتدال پسندانہ جذبے سے متصادم ہے‘‘۔
-
لبنان اور فرانسیسی قیادت کا حزب اللہ-اسرائیل جھڑپیں رکوانے کے لیے تبادلۂ خیال
فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے جمعہ کے روز پیرس میں لبنان کے وزیرِ اعظم نجیب ...
مشرق وسطی -
پیرس، اسرائیل کے ہاتھوں فلسطینیوں کی نسل کشی کے خلاف احتجاجی مظاہرہ، ہزاروں شریک
یورپی ملکوں میں نسل پرستی کے بڑھتے ہوئے واقعات کے خلاف احتجاج کے میں اضافہ ہو رہا ...
بين الاقوامى -
ناکام عاشق نے اپنی محبوبہ کے گھر درجنوں کھانوں کا بل بھیج کر حیران کر دیا
ترکیہ میں ایک خاتون کے ناکام عاشق نے ’بے وفائی‘ کا بدلہ لینے کےلیے ایک انوکھا حربہ ...
بين الاقوامى