ایران نے پیر کے روز امریکہ میں یونیورسٹی طلباء کے خلاف پولیس کے کریک ڈاؤن پر تنقید کی جو غزہ کی پٹی میں اسرائیل اور حماس کی جنگ میں ہلاکتوں کی تعداد میں اضافے کے خلاف احتجاج کر رہے ہیں۔
ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان ناصر کنعانی نے کہا، "امریکی حکومت نے انسانی حقوق کی ذمہ داریوں اور جمہوریت کے اُن اصولوں کے احترام کو عملاً نظر انداز کیا ہے جن کا وہ دعویٰ کرتے ہیں۔"
انہوں نے کہا کہ تہران "تشدد کو روکنے والی پولیس اور فوجی رویے کو بالکل بھی قبول نہیں کرتا جس کا نشانہ تعلیمی ماحول اور طلباء کے مطالبات ہیں۔"
امریکی یونیورسٹیاں فلسطینیوں کے حامی مظاہروں سے لرز اٹھی ہیں جو کیمپس میں طلباء کی پولیس سے جھڑپوں اور ہفتے کے آخر میں تقریباً 275 افراد کی گرفتاری کی وجہ بنے۔
یہ مظاہرے نیویارک کی کولمبیا یونیورسٹی سے شروع ہوئے اور تب سے ملک کے طول و عرض میں پھیل گئے۔
ایران میں اتوار کو تہران اور دیگر شہروں میں سینکڑوں افراد نے امریکہ کے طلباء مظاہروں کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کے لیے مظاہرے کیے۔
تہران حماس کی حمایت کرتا ہے لیکن اس نے سات اکتوبر کے حملے میں براہِ راست ملوث ہونے سے انکار کیا ہے۔
ناصر کنعانی نے کہا، "حالیہ دنوں میں جو کچھ ہم نے امریکی یونیورسٹیوں میں دیکھا ہے، وہ مسئلہ فلسطین کے حوالے سے عالمی برادری اور عالمی رائے عامہ کی بیداری ہے۔"
نیز انہوں نے کہا، "پولیس کی کارروائی اور پرتشدد پالیسیوں کے ذریعے اس جرم اور نسل کشی کے خلاف مظاہرین کی بلند آوازوں کو خاموش کرنا ممکن نہیں۔"
-
کیا ایران اغوا کیے بحری جہاز کے عملے کو رہا کرنے کےلیے کام کررہا ہے؟
میڈیا رپورٹس کے مطابق ایران دو ہفتے قبل اغواء کئے گئے بحری جہاز کے عملے کو رہا ...
بين الاقوامى -
مظاہرے میں تصادم، پیرس کے طلبا نے اسرائیل مخالف احتجاج ختم کر دیا
فرانس کی سب سے معتبر یونیورسٹیوں میں سے ایک کے طلبہ نے اسرائیل کی غزہ میں جنگ ختم ...
بين الاقوامى -
امریکی فوج کی بحیرہ احمر کی فضائی حدود میں پانچ مسلح ڈرون سے جھڑپ
امریکی سینٹرل کمانڈ نے کہا ہے اس کی افواج نے بحیرہ احمر کے اوپر 5 ڈرونز کو مار ...
بين الاقوامى