قانونی ذرائع نے جمعے کے روز بتایا کہ ایک یونانی اپیل کورٹ نے جاسوسی کے الزام میں ترکی کے قونصل خانے کے لیے کام کرنے والے ایک شخص کو پانچ سال قید کی سزا سنائی ہے۔ یہ سزا اس مقدمے میں ہوئی جس کی وجہ سے نیٹو اتحادیوں کے درمیان تعلقات کشیدہ ہو گئے تھے۔
روڈز جزیرے پر ترکی کے قونصل خانے میں ملازم اس یونانی شہری کو 2020 میں گرفتار کیا گیا تھا۔
اس نے کسی غلط کام کے ارتکاب سے انکار کیا ہے اور ترکی کی وزارت خارجہ نے اس گرفتاری کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ اس کی وجہ سے اُس وقت کے قونصلر اہلکار کے حقوق کی خلاف ورزی ہوئی۔
ایک اور یونانی شہری جو رہوڈز-کاسٹیلوریزو لائن کو چلانے والے ایک مسافر بردار بحری جہاز پر باورچی کا کام کرتا تھا اور اسی وقت گرفتار کیا گیا، اسے بھی تین سال قید کی سزا سنائی گئی ہے۔ اس نے بھی کسی غلط کام سے انکار کیا ہے۔
کاسٹیلوریزو ترکی کے ساحل سے کچھ دور ایک چھوٹا یونانی جزیرہ ہے۔
دونوں افراد گرفتاری سے پہلے کئی مہینوں تک نگرانی میں رہے اور ان پر بحیرۂ ایجیئن میں یونانی مسلح افواج کی نقل و حرکت کی تصاویر بنانے کا الزام تھا۔
یونان اور ترکی کے درمیان دیرینہ مسائل ہیں جن کی وجہ سے وہ اختلاف رکھتے ہیں جن میں قبرص کے منقسم جزیرے سے لے کر بحیرۂ ایجیئن اور بحیرۂ روم میں تلاش کے حقوق شامل ہیں۔
دسمبر میں دونوں ممالک نے اپنے تعلقات دوبارہ شروع کرنے پر اتفاق کیا اور ان کے درمیان قریبی تعلقات کے ایک نئے دور کا آغاز کرنے کے لیے ایک منصوبہ بنایا گیا۔