غزہ کی پٹی پر اسرائیلی جنگ کے خاتمے اور حماس اور اسرائیل کے درمیان قیدیوں کے تبادلے کے بارے میں ہونے والی بات چیت کے درمیان رفح کراسنگ سب سے اہم حل طلب مسائل میں سے ایک ہے۔
مصری تجاویز
اتوار کو نجی ذرائع نے العربیہ/الحدث کو نئی تفصیلات سے آگاہ کیا ہے جس میں اس اہم کراسنگ کے حوالے سے تجاویز شامل ہیں۔
اس میں یہ بتایا گیا کہ قاہرہ امداد کے داخلے پر پابندی کے بغیر فلسطینی فریق کے ساتھ مل کر کراسنگ کو دوبارہ کھولنے کے یقین دہانی چاہتا ہے۔
انہوں نے عندیہ دیا کہ مصر امریکہ کو اپنے مطالبات کی فہرست پیش کرے گا جن میں رفح سے اسرائیلی فوج کے انخلاء کا مطالبہ بھی شامل ہے۔
ذرائع نے کہا کہ مصری تجویز میں پوری کراسنگ اور اس کے گردونواح سے اسرائیلیوں کا غیر مشروط انخلاء اور پھر اسے فلسطینیوں کے ذریعے چلانے کی تجویز بھی شامل ہے۔
ذرائع نے بتایا کہ مصر نے فلسطینی فریق کے ساتھ مل کر غزہ کو امداد کی فراہمی پر زور دیا گیا ہے جبکہ امداد کے بہاؤ کے لیے فوری حل اور طریقہ کار تجویز کیا گیا۔
اس تجویز میں اسرائیل کی رفح کراسنگ پر موجودگی کو ختم کرنے اور تل ابیب کو کراسنگ یا کوآرڈینیشن سے متعلق کسی بھی معاملے میں مداخلت سے روکنے کا بھی مطالبہ کیا گیا ہے۔
یہ پیش رفت کل شام قاہرہ میں مصری-امریکی-اسرائیلی میٹنگ کے بعد ہوئی جس میں کراسنگ پر بات چیت کی گئی۔
ایک اعلیٰ سطحی ذریعے نے مزید کہا کہ قاہرہ نے تمام فریقوں کو اس بات کی تصدیق کی ہے کہ رفح کراسنگ کو اس وقت تک نہیں کھولا جائے گا جب تک اس کے فلسطینی حصے پر اسرائیلی کنٹرول برقرار ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ قاہرہ امریکی صدر جو بائیڈن کی حالیہ تجویز کی روشنی میں غزہ میں جنگ بندی کے مذاکرات کی طرف واپسی کے لیے بھرپور کوششیں کر رہا ہے۔